سلسلہ احمدیہ — Page 198
198 بھجوا دیا جائے۔حالات ٹھیک ہونے پر انہیں واپس بلایا جا سکتا ہے (۴۳)۔حضور کی ہدایت پاکستان ریڈیو سے بھی نشر کی گئی۔بظاہر دونوں حکومتیں بھی یہی اعلان کر رہی تھیں کہ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر نہ جائیں۔کسی کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔دوسروں لوگوں کے برعکس قادیان کے احمدی منظم طریق پر اپنا جائز دفاع کر رہے تھے۔قادیان کے نواح میں بہت سے دیہات میں احمدیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ان سے رابطہ رکھنے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے قادیان سے مختلف احباب جیپوں میں جا کر ان سے مل کر ان کا حوصلہ بڑھاتے اور ان کی مشکلات کا جائزہ لیتے۔حضور کی طرف سے اس اعلان کے فوراً بعد 9 ستمبر کو مقامی افسران نے یہ الزام لگایا کہ احمدی جیپوں میں علاقے کا دورہ کر کے مسلمانوں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ سکھوں پر حملے کریں۔اس بودے الزام کو بنیاد بنا کر ان افسران نے علاقے میں جیپوں کی نقل وحرکت پر پابندی لگا دی۔حقیقت یہ تھی اس علاقے میں سکھوں پر کوئی حملے ہو ہی نہیں رہے تھے۔بلکہ ایک کے بعد دوسرا مسلمان گاؤں تباہ کیا جا رہا تھا۔قادیان میں پناہ گزینوں کا ہجوم: اس پابندی کی وجہ سے قادیان اور نواحی جماعتوں کے درمیان رابطہ تقریباً منقطع ہو گیا۔اس کے ساتھ ہی نواحی دیہات میں سکھ بلوائیوں نے اپنے حملے شدید تر کر دئیے۔زندہ بچ جانے والے مسلمانوں نے پناہ لینے کے لئے قادیان کا رخ کیا۔۱۱ اور ۱۲ ستمبر کو ماحول قادیان کے دیہات میں رہنے والے ہزاروں مسلمان اپنے گاؤں خالی کر کے قادیان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔جلد ہی ان لئے ہوئے پناہ گزینوں کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کرگئی۔ان پناہ گزیں مسلمانوں کی بھاری اکثریت جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔قادیان کے محصور احمدی خود ہر طرح کے مصائب سے نبرد آزما تھے مگر اس کے باوجود ان مسلمان پناہ گزینوں کو کھلے دل کے ساتھ ہر قسم کی مدد پہنچائی گئی۔قادیان کے دفاتر سکولوں، کالج اور ان کے ہاسٹلوں اور احمدیوں کے مکانات میں ان پناہ گزینوں کو ٹھہرایا گیا۔مگر یہ جگہ کافی نہیں تھی۔بالآخر ہر باغ ، ہر میدان اور ہر راستہ پناہ گزینوں کا کیمپ بن گیا۔اکثر کو تو درخت کا سایہ بھی میسر نہیں تھا۔سردی کا موسم شروع ہورہا تھا۔اکثر پناہ گزینوں کے