سلسلہ احمدیہ — Page 193
193 تو تمام احباب نے یہی عرض کی کہ ابھی جماعت پر کالج کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔حضور نے یہ آراء سن کر ایک جوش سے فرمایا ' آپ کو پیسوں کی کیوں فکر پڑی ہے۔کالج چلے گا اور کبھی بند نہیں ہوگا' اور پھر کالج کے پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب کو ارشاد فرمایا، آسمان کے نیچے پاکستان کی سرزمین میں جہاں کہیں بھی جگہ ملتی ہے لے لو اور کالج شروع کر دو۔چنانچہ جماعت نے شروع ہی سے مرکزی تعلیمی اداروں کو جلد از جلد دو بارہ قائم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔۳۱ اکتوبر کو تعلیم الاسلام ہائی اسکول کا سٹاف لاہور پہنچا۔جیسا کہ ہم بعد میں جائزہ لیں گے اس وقت تک جماعت نئے مرکز کے لئے ، چنیوٹ سے قریب دریائے چناب کے کنارے چک ڈھگیاں کا انتخاب کر چکی تھی اور اس زمین کے حصول کے لئے کوششیں ہو رہی تھیں۔چنانچہ نومبر کے آغاز میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ارشاد کے مطابق سکول کا عملہ چنیوٹ منتقل ہوا۔یہاں پر گورنمنٹ نے اسکول کے لئے بھگوانداس کی بلڈنگ جماعت کو دی۔اس بلڈنگ میں پہلے ہندو پناہ گزیں ٹھہرے ہوئے تھے جو جاتے ہوئے اس عمارت کی کھڑکیاں دروازے اور دیگر سامان نذر آتش کر گئے تھے۔بہر حال ۲۵ طلباء کے ساتھ اس کسمپرسی کے عالم میں اسکول کا آغاز کیا گیا۔جلد ہی طلباء کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور حکومت کی طرف سے دیگر عمارات الاٹ ہونے کے علاوہ گرانٹ بھی ملنے لگی۔جلد ہی اسکول کے عمدہ نتائج نے اس کی نیک شہرت میں اضافہ کر دیا۔نومبر کے آغاز میں مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے اساتذہ پاکستان پہنچے۔تین روز کے بعد دونوں ادارے لاہور میں شروع کر دیئے گئے۔مگر جگہ کی تنگی اور ہوسٹل نہ ہونے کے باعث ان کو بھی چنیوٹ منتقل کر دیا گیا۔دو ماہ کے بعد ہی چک ڈھکیاں کے بالکل قریب احمد نگر میں ایک حویلی اس غرض کے لئے حاصل کر لی گئی اور یہ دونوں ادارے وہاں پر منتقل ہو گئے اور دونوں کو مدغم کر کے ایک ادارہ بنا دیا گیا اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اس کے پرنسپل مقرر ہوئے۔جامعہ احمد یہ میں نہ صرف کلاسوں کا اجراء ہوا بلکہ چند ماہ ہی میں اس عظیم ادارے میں تحقیق کا کام بھی شروع کر دیا گیا اور ایک سہ ماہی علمی مجلہ المنشور کی اشاعت بھی شروع کر دی گئی (۱۰)۔اسی طرح رتن باغ کے پچھلے احاطہ میں لڑکیوں کے اسکول کا آغاز کر دیا گیا۔یہاں پر دھوپ اور بارش سے بچنے کا انتظام بھی نہیں