سلسلہ احمدیہ — Page 192
192 قادیانی بغیر کسی کاوش کے از سر نو بحال ہو گئے پھر یہ بات بھی مستحق توجہ ہے کہ یہ وہ واحد جماعت ہے کہ جس کے ۳۱۳ افراد تقسیم کے لحہ سے آج تک قادیان میں موجود ہیں۔اور وہاں اپنے مشن کے لئے کوشاں بھی ہیں اور منتظم بھی۔‘ (۶) ان بروقت کوششوں کے نتیجے میں ہجرت کرنے والے وہ احمدی جن کی سب املاک لٹ چکی تھیں ، بہت کم مدت میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر باعزت طریق پر زندگی گذارنے لگے۔پنجاب کی آبادی کے ایک بڑے حصے پر قیامت گزر گئی تھی لیکن فرق یہ تھا کہ احمدی اپنے امام کی ڈھال کے پیچھے کھڑے ہو کر ان مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ ان کے لئے دن رات دعائیں بھی کر رہا تھا اور ان کی مشکلات دور کرنے کے لئے ہر قسم کی تدابیر بھی کی جا رہی تھیں۔ہزاروں مرد عورتیں اور بچے بے سروسامانی کے عالم میں لاہور آکر آستانہ خلافت پر پڑے تھے۔ان کا ہمدرد امام ان کے لئے خوردونوش کا انتظام بھی کر رہا تھا ، ان کی تن پوشی کے لئے کوششیں ہو رہی تھیں اور ان کو باعزت روزگار مہیا کرنے کا انتظام بھی کیا جا رہا تھا۔ان میں سے بہت سے صدمات سے نڈھال ہو رہے تھے۔ان کا امام اپنے روح پرور کلمات سے ان کے حوصلے بڑھا رہا تھا اور ان کی دلجوئی کے سامان کر رہا تھا۔اس عظیم ابتلاء کے دور میں احمدی ایک مرتبہ پھر خدا تعالیٰ کا یہ اٹل وعدہ پورا ہوتا دیکھ رہے تھے کہ خلافت کی برکت سے ان کی خوف کی حالت امن سے بدل دی جائے گی۔پاکستان میں تعلیمی اداروں کا اجراء: قادیان میں جماعت کے تعلیمی ادارے مستحکم ہو چکے تھے۔یہاں پر لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول تھے، کالج کا آغاز ہو چکا تھا۔مبلغین کی تیاری کے لئے مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمد یہ کام کر رہے تھے۔ہجرت کے ابتلاء میں ان اداروں پر غاصبانہ قبضہ کر لیا گیا۔اور احمدیوں کی اکثریت پاکستان منتقل ہو گئی۔اب حالات کا تقاضہ تھا کہ یہاں پر جماعت نئے سرے سے سے تعلیمی ادارے بنائے۔لیکن تعلیمی اداروں کا آغاز کر کے ان کو ترقی دینا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔اور ان حالات میں جماعت کو مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا تھا۔جب اس مسئلہ پر غور کرنے کے لئے میٹنگ ہوئی