سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 181 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 181

181 حضور کی ہجرت : ۳۱ اگست ۱۹۴۷ء کو حضور نے بیرونی جماعتوں کے نام ایک پیغام بھجوایا۔اس میں حضور نے تاکید فرمائی کہ اگر قادیان میں کوئی حادثہ ہو جائے تو جماعت کا پہلا فرض یہ ہوگا کہ شیخو پورہ یا سیالکوٹ میں ریل کے قریب لیکن نہایت سستی زمین لے کر ایک مرکز بنایا جائے۔عمارات سادہ ہوں اور فوراً کالج سکول ، مدرسہ احمدیہ اور جامعہ کی تعلیم کو جاری کیا جائے۔کوشش کی جائے کہ بڑے بڑے علماء پیدا ہوں۔اگر میں مارا جاؤں یا اور کسی طرح جماعت سے علیحدہ ہو جاؤں تو پہلی صورت میں فوراً خلیفہ کا انتخاب ہو اور دوسری صورت میں ایک نائب خلیفہ منتخب کیا جائے۔جماعت با وجود ان تلخ تجربات کے قانون شکنی سے بچتی رہے اور اپنی نیک نامی کے ورثے کو ضائع نہ کرے۔ان مصائب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر بدظنی نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ جماعت کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔(۵۹) ۳۱ راگست کو حضور کے ارشاد کے ماتحت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اہلِ قادیان کے لئے یہ ہدایت جاری فرمائی۔جو احمدی عورتیں اور بچے ان حالات میں پاکستان جانا چاہیں انہیں اجازت ہے۔لیکن کوئی مرد بغیر اجازت کے نہیں جائے گا۔سلسلہ کی طرف سے کنوائیز کا انتظام کیا جارہا ہے جس میں حسب گنجائش عورتوں، بچوں اور اجازت لے کر جانے والے مردوں کو موقع دیا جائے گا۔صحیح تاریخ ایک عمدہ معلم ہے۔تاریخ اسلام اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی خلیفہ وقت کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی کی گئی یا دشمن کو ایسا موقع دیا گیا کہ وہ خلیفہ پر حملہ آور ہوسکیں تو اس سے بھیانک فتنوں کے دروازے کھل گئے۔حضرت عثمان کی شہادت ایک ایسا واقع ہے جسے پڑھ کر آج تک مسلمانوں کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔اسی طرح حضرت عمرؓ اور حضرت علی کی شہادتیں ایسے واقعات نہیں جنہیں فراموش کیا جا سکے۔نظام صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب اس کی قیادت امام وقت کے ہاتھ میں ہو۔ان حالات میں جب کہ قادیان باقی دنیا سے منقطع ہو چکا تھا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے لئے جماعت سے رابطہ رکھنا بھی ممکن نہیں رہا تھا اور مسلسل یہ اطلاعات مل رہی تھیں کہ فساد کر نیوالوں کا ارادہ ہے کہ ۳۱ اگست کے بعد مسلمانوں پر پہلے سے بھی زیادہ مظالم کئے