سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 180 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 180

180 جائے جاتے تھے۔ایک مرتبہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ آج میں اپنی سب سے قیمتی چیز لے جانے کے لئے دوں گا اور تم نے انہیں انہی الفاظ کے ساتھ شیخ بشیر صاحب کے حوالے کرنا ہے۔سیدہ حضرت مریم صدیقہ صاحبہ ایک چھوٹا سوٹ کیس لے کر آئیں۔اس کو کھولا تو اس کے اندر مختلف قسم کے کاغذ تھے۔حضور نے فرمایا یہ تفسیری نوٹ ہیں جو میں نے مختلف وقتوں میں لکھے ہیں۔اور آج تم نے انہیں لاہور پہنچانا ہے۔۲۷ اگست کو مینیجر صاحب روز نامہ الفضل نے رپورٹ دی کہ ان حالات میں جبکہ قادیان کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہو چکا ہے۔ڈاک بھی نہیں بھجوائی جاسکتی تو یہاں سے شائع ہو کر الفضل باہر کی جماعتوں تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔چنانچہ اسے کسی باہر کے مقام سے شائع کرنے کا انتظام ہونا چاہئیے۔حضور کی منظوری سے فیصلہ ہوا کہ جتنی جلدی ممکن ہو اخبار لاہور سے جدید ڈیکلریشن لے کر شائع کیا جائے۔اور قادیان میں مقامی ضرورتوں کے مطابق دو چار صفحے کا اخبار شائع کیا جائے۔اخلاقی قدروں کی حفاظت : جہاں اس پر آشوب دور میں یہ ضروری تھا کہ انسانی جانوں اور مقدس مقامات کی حفاظت کی جائے ، وہاں ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کی حفاظت بھی ضروری تھی جنہیں حضرت محمد مصطفے ﷺ نے قائم فرمایا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے ۲۹ اگست ۱۹۴۷ء کو جمعہ پڑھایا اور اس میں ارشاد فرمایا کہ حالات خواہ کچھ ہوں مومن کو بہر حال انصاف محبت، شفقت اور رحم پر قائم رہنا چاہئیے اور اپنے دلوں کو بغضوں اور کینوں سے پاک رکھنا چاہئیے کہ نیک نمونہ دشمن کو بھی خیر خواہ بنا سکتا ہے۔ہمیں ہر ہندو اور سکھ عورت اور بچے کی اپنی بہن اور بچے کی طرح حفاظت کرنی چاہئیے۔اس وقت قادیان میں کثرت سے مسلمان پناہ گزین آرہے تھے اس لئے حضور نے فرمایا کہ قادیان میں پناہ گزینوں کی کثرت ہے۔اس لئے ضروریات زندگی گندم لکڑی اور مٹی کے تیل کو چاندی کی طرح استعمال کرنا چاہئیے اور کم سے کم استعمال کرنا چاہیئے۔آخر میں حضور نے فرمایا کہ دعاؤں میں کمی نہیں آنے دینی چاہئیے۔حالات خواہ کچھ ہوں لیکن بندے کا کام یہی ہے کہ وہ دعا مانگتا چلا جائے اور پھر خدا تعالیٰ جو کچھ کرے اس پر راضی رہے۔یہ آخری جمعہ تھا جو حضور نے قادیان میں پڑھایا تھا۔