سلسلہ احمدیہ — Page 172
172 تحسین پیش کیا۔جب ۱۹۵۳ء کے فسادات کے دوران بعض فتنہ پروروں نے باؤنڈری کمیشن کے حوالے سے چوہدری صاحب پر اعتراضات کئے تو جسٹس منیر نے ، جو باؤنڈری کمیشن کے رکن تھے اور ۱۹۵۳ء میں ہونے والے فسادت پر قائم ہونے والی تحقیقاتی عدالت کے رکن بھی تھے ،لکھا کہ عدالت ہذا کا صدر جو اس کمیشن کا ممبر تھا۔اس بہادرانہ جد و جہد پر تشکر وامتنان کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو چوہدری ظفر اللہ خان نے گورداسپور کے معاملے میں کی تھی۔یہ حقیقت باؤنڈری کمیشن کے کاغذات میں ظاہر و باہر ہے اور جس شخص کو اس مسئلہ سے دلچسپی ہو وہ شوق سے اس ریکارڈ کا معائنہ کر سکتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان نے مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات انجام دیں۔ان کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالتی تحقیقات میں ان کا ذکر جس انداز میں کیا ہے وہ قابلِ شرم ناشکرے پن کا ثبوت ہے۔بحث ختم ہونے کے بعد کمیشن کے اراکین لاہور سے شملہ چلے گئے۔۷ اگست کو کمیشن کا کام ختم ہو گیا۔ریڈ کلف وائسرائے کو رپورٹ دینے کے لئے دہلی چلے گئے۔انہوں نے روانہ ہونے سے قبل کمیشن کے اراکین کو استفسار کے باوجود یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کا حتمی فیصلہ کیا ہوگا۔چوہدری صاحب ابھی لاہور میں تھے کہ انہیں قائد اعظم کی طرف سے پیغام ملا کہ انہیں دہلی میں مل کر واپس بھوپال جائیں۔چوہدری صاحب جب شام کے کھانے پر قائد اعظم سے ملے تو قائد اعظم نے ان سے معانقہ کیا اور کہا کہ میں تم سے بہت خوش ہوں اور تمہارا نہایت ممنون ہوں کہ تمہارے سپر د جو کام ہوا تھا تم نے اسے اعلیٰ قابلیت اور احسن طریق پر کیا ہے۔پھر چوہدری صاحب نے قائد اعظم کو کاروائی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔(۵۰) تشویشناک اطلاعات: 9 اگست کو چوہدری محمد علی صاحب ، جو بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی بنے ایک مالی مسئلے پر قائد اعظم سے ملنے کے لئے دہلی سے کراچی آئے۔لیاقت علی خان صاحب نے چوہدری محمد علی صاحب کو کہا کہ قائد اعظم کو باؤنڈری کمیشن کے فیصلے کے بارے میں اور خاص طور پر ضلع گورداسپور کی بابت بہت تشویشناک اطلاعات مل رہی ہیں۔اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جالند ہر اور امرتسر کے