سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 167 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 167

167 امر یہ ہے کہ ارکان کمیشن کو غیر مبہم الفاظ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تقسیم پنجاب کے سلسلہ میں انہوں نے کون کون سے اصول پیشِ نظر رکھنے ہیں۔اس طرح جہاں ارکان کمیشن کے لئے کئی مشکلات پیدا کر دی گئی ہیں وہاں مختلف پارٹیاں' دوسرے عوامل کی مختلف تاویلات پیش کریں گی اور کمیشن کی تمام کاروائی ایک مذاق بن جائے گی۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ دیدہ دانستہ ایسی صورتِ حال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں ارکانِ کمیشن متنازعہ فیہ علاقوں کے بارے میں باہمی مفاہمت سے کچھ طے نہ کرسکیں۔اور ایوارڈ کا ٹھونسنا ناگزیر ہو جائے۔“ یہ خبر پھیلنے کی دیر تھی کہ حکومت کی مشینری تیزی سے حرکت میں آگئی۔۱۹ جولائی کو حکومتِ پنجاب نے اخبارات کے نام یہ حکم جاری کیا کہ وہ حد بندی کے کمیشن کی کاروائی کے متعلق کوئی خبر کوئی تبصرہ کوئی مضمون اور کوئی تصویر سوائے سرکاری اعلان کے،حکومت پنجاب سے سینسر کرائے بغیر شائع نہ کریں۔(۴۷) اب صورت حال واضح ہوتی جارہی تھی۔تعصب اور جانبداری کی دیوی کے چرنوں پر انصاف کی قربانی دی جارہی تھی۔کمیشن میں بحث شروع ہوتی ہے، جماعت کا اصولی موقف: جمعہ کے روز تحریری بیانات جمع ہوئے۔اور سوموار کو کمیشن کے سامنے بحث شروع ہوئی۔کانگرس کی طرف سے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ ایک علاقے کے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے صرف یہ نہیں دیکھنا چاہئیے کہ اس علاقے کی اکثریت کس ملک کے ساتھ شامل ہونا چاہتی ہے بلکہ حکومت کے اعلان میں مذکور دیگر عوامل کو مد نظر رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔اور کانگرس کے پیش کردہ بعض اہم امور یہ تھے۔لائکپور منٹگمری اور شیخو پورہ کے اضلاع میں سکھ کافی تعداد میں ہیں اس لئے ان اضلاع کو ہندوستان میں شامل کرنا چاہئیے تا کہ سکھ قوم کی وحدت برقرار رہ سکے۔حقیقت یہ تھی کہ ان تینوں اضلاع میں مسلمان ساٹھ فیصد سے زائد تھے اور پاکستان کے حق میں واضح رائے دے چکے تھے۔گویا ان کا مطالبہ یہ تھا کہ اکثریت کے فیصلے کو نظر انداز کر دینا چاہئیے اور صرف سکھ قوم کی وحدت کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہئیے۔پھر ان کی طرف سے یہ درخواست پیش کی گئی کہ چونکہ شیخو پورہ ، گورداسپور اور لاہور