سلسلہ احمدیہ — Page 165
165 حوالے چوہدری صاحب کو عطا فرمائے اور فرمایا کہ اصل کتب انگلستان سے منگوائی گئی ہیں ، اگر وہ بر وقت پہنچ گئیں تو وہ بھی بھجوا دی جائیں گی۔نیز ارشاد فرمایا کہ جماعت نے اپنے خرچ پر پروفیسر سپیٹ کی خدمات حاصل کی ہیں۔وہ لاہور پہنچ چکے ہیں اور نقشہ جات تیار کرنے میں مصروف ہیں یتم تحریری بیان تیار کرنے کے بعد ان سے مشورے کے لئے وقت نکال لینا۔وہ آکر تمہیں بعض پہلو سمجھا دیں گے۔چنانچہ متعلقہ کتب انگلستان سے قادیان پہنچیں اور وہاں سے انہیں بذریعہ موٹر سائیکل لاہور لایا گیا اور ان سے دور ان بحث بہت مدد ملی۔پروفیسر سپیٹ نے چوہدری صاحب سے مل کر انہیں دفاعی پہلو کے متعلق نکات سمجھا دئیے۔چنانچہ جب کانگرس کے وکیل مسٹر ستیلو اڈ کی طرف سے دفاعی پہلوؤں کو بنیاد بنا کر دریائے جہلم تک کے علاقے کو ہندوستان میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تو حضرت چوہدری صاحب نے پروفیسر سپیٹ کے بنائے ہوئے نقشے اور بیان کردہ نکات کمیشن کے رو برو پیش کئے۔کانگرس کے وکیل کی طرف سے ان کا کوئی معقول جواب نہ دیا گیا۔ان واقعات پر سرسری نظر ڈالنے والا یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ پنجاب مسلم لیگ کا ایک طبقہ احمدیوں پر کفر کے فتوے لگانے اور ان پر مسلم لیگ کے دروازے بند کرنے کے لئے تو بہت زور لگا تا رہا تھا لیکن جب قوم پر اتنی بڑی آزمائش کا وقت آیا تو ان میں سے کوئی بھی خدمت کے لئے سامنے نہ آیا۔اور اس وقت خدمت کے لئے اگر کوئی جماعت پیش پیش تھی تو وہ جماعت احمد یہ تھی۔قوم پر آئے ہوئے بحران کا سامنا صرف جلسے جلوسوں اور اخباری بیانات سے نہیں کیا جاتا ، اس کے لئے بہت سی ٹھوس خدمات کرنی پڑتی ہیں۔کا روائی محض ڈھونگ ثابت ہوئی: حضور کے تشریف لے جانے کے بعد کمیشن میں مسلم لیگ کے نامزد کردہ حج جسٹس دین محمد صاحب آئے۔وہ بہت پریشان تھے۔اور کہنے لگے تم اپنی طرف سے تحریری بیان تیار کرو اور جیسے بن پڑے بحث بھی کرنا لیکن میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ یہ سب کا روائی محض کھیل ہے۔حد بندی کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اسی کے مطابق حد بندی ہوگی۔پھر انہوں نے وضاحت کی کہ ریڈ کلف نے جہاز پر علاقے کا معائینہ کرنے جانا تھا۔صبح سات بجے والٹن ایئر پورٹ سے فلائیٹ تھی مگر گرد کی وجہ سے