سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 163 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 163

163 میں وقتِ مقررہ پر ممدوٹ ولا پہنچ گیا وہاں بہت سے وکلاء اصحاب موجود تھے۔۔۔۔مجھے کسی قدر حیرت ہوئی کہ اتنے قانون دان اصحاب کو کیوں جمع کیا گیا ہے۔میں نے وکلاء صاحبان سے دریافت کیا کہ آپ میں سے کون کون صاحب اس کیس میں میرے رفیق کار ہیں؟ اس پر ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین صاحب نے فرمایا کہ کس کیس میں؟ میں نے کہا اسی حد بندی کے کیس میں جس کیلئے میں حاضر ہوا ہوں ! خلیفہ شجاع الدین صاحب نے فرمایا کہ ہمیں تو کسی کیس کا کوئی علم نہیں۔ہم سے تو صرف یہ کہا گیا تھا کہ تم کیس کی پیروی کیلئے آئے ہو اور اس کمیشن کے رو بر مسلم لیگ کا کیس تم پیش کرو گے اور تمہیں ملنے کیلئے ہمیں اس وقت یہاں آنے کی دعوت دیگئی تھی۔میں نے نواب صاحب کی طرف استفساراً دیکھا تو وہ صرف مسکرا دیئے۔میں نہایت سراسیمگی کی حالت میں اٹھ کھڑا ہوا وکلاء صاحبان سے معذرت خواہ ہوا کہ وقت بہت کم ہے اور مجھے کیس کی تیاری کرنی ہے۔اسلئے رخصت چاہتا ہوں۔“ اس مرحلے پر بحث مباحثہ یا الزام تراشی بے کار تھی۔قائد اعظم اس وقت دہلی میں تھے۔ان سے فون پر رابطہ کرنا مناسب نہ تھا اور یہ ذمہ داری پنجاب مسلم لیگ کی تھی۔اس مرحلے پر ان کی کوتاہی کی شکایت محض قائد اعظم کی پریشانی میں اضافہ ہی کر سکتی تھی۔چوہدری صاحب نے نواب صاحب ممدوٹ سے صرف یہ عرض کی کہ دو تیز سٹینو گرافر بمع دفتری سامان کے ان کی طرف بھیجوا دیں۔نواب صاحب نے وعدہ کیا کہ صبح سات بجے یہ سامان پہنچا دیا جائے گا۔کمیشن کی کاروائی شروع ہوئی اور ختم بھی ہوگئی مگر نواب صاحب کے سٹینو گرافر نہ پہنچے۔پنجاب مسلم لیگ کی مستعدی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۱۸ جولائی کو سب فریقوں نے میمورنڈم بھجوانے تھے اور ۱۷ جولائی کے نوائے وقت میں پنجاب کے ایک مبر اسمبلی کی طرف سے اپیل شائع کی گئی کہ ، گو کمیشن کے روبرو پیش کرنے کے لئے اعداد و شمار اکھٹے کرنے کا کام پنجاب مسلم لیگ کا تھا لیکن وہ دیگر مصروفیات کی وجہ سے یہ کام نہیں کر سکے اس لئے مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے علاقوں کے اعداد و شمار بھجوائیں۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ اُس وقت کانگرس لاہور۔لائل پور اور منٹگمری کے اضلاع پر بھی دعوی کر رہی تھی ، پاکستان کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا تھا، اس سے زیادہ اہم کام کیا ہوسکتا تھا