سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 159 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 159

159 باؤنڈری کمیشن کی تشکیل: جون ۱۹۴۷ء کو حکومت نے اعلان کیا جونہی اس صوبے ( پنجاب ) کی تقسیم کا فیصلہ ہوا ، وائسرائے کی طرف سے ایک باؤنڈری کمیشن کی تشکیل کی جائے گی۔متعلقہ فریقوں کے مشورے سے قواعد مقرر کیئے جائیں گے۔اس کے سپرد پنجاب کو مسلمانوں اور غیر مسلموں کی اکثریت کے متصل علاقوں کے درمیان کی سرحد متعین کرنے کا کام ہو گا۔اس کو یہ بھی ہدایت دی جائے گی کہ دیگر عوامل کو بھی پیش نظر رکھے۔۔۔جب تک کہ یہ کمیشن رپورٹ نہیں پیش کرتا ، اس وقت تک ضمیمہ میں دکھائی گئی سرحد لا گو ہوگی۔“ اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ بنگال کو تقسیم کرنے کے لیئے بھی ایسا ہی کمیشن قائم کیا جائے گا۔اس اعلان میں موجود دیگر عوامل کے ذکر نے کمیشن کے چیئر مین کے لئے من مانی کرنے کے دروازے کھول دیئے۔دیگر عوامل کا ذکر تو کر دیا گیا لیکن یہ وضاحت نہ کی گئی کہ اس سے کیا مراد ہے اور یہ عوامل کس حد تک حد بندی کو تبدیل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔کمیشن کی تشکیل کے لئے دو تجاویز پیش ہوئیں۔پہلی یہ کہ دونوں کمشنوں میں اقوامِ متحدہ کے توسط سے تین غیر جانبدار حج مقرر کئے جائیں اور طرفین کے تین تین نمایندے بھی شامل ہوں۔دوسری تجویز یہ تھی کہ دونوں کمیشنوں میں مسلم لیگ اور کانگرس کے نامزد کردہ دو دو جج شامل ہوں اور ان کا سر براہ ایک غیر جانبدار شخص کو مقرر کیا جائے۔مسلم لیگ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ ممبران کمیشن کو ترجیح دے رہی تھی مگر پنڈت جواہر لال نہرو کا کہنا تھا کہ اس طرح کمیشن کی تشکیل کا عمل غیر معمولی تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔مسلم لیگ کی طرف سے جسٹس محمد منیر اور جسٹس دین محمد صاحب کے نام پیش کئے گئے اور کانگرس کی طرف سے جسٹس مہر چند مہاجن اور جسٹس تیجا سنگھ کو نامزد کیا گیا۔کمیشن کے غیر جانبدار ممبر کا تقرر باقی تھا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اس وقت بعض ریاستوں سے متعلقہ بعض