سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 151 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 151

151 پسندوں کے حملے سے خطرہ اتنا بڑھا کہ خود وزیر اعلیٰ کو پستول نکال کر دھمکی دینی پڑی کہ اگر حملہ آور آگے بڑھے تو وہ گولی چلا دیں گے۔حالات کا سیلاب ہر چیز کو اپنے ساتھ بہائے لے جارہا تھا۔ان بگڑتے ہوئے حالات میں برطانوی حکومت سے امید کی جاسکتی تھی کہ وہ امن عامہ کو بحال کرنے کی کوشش کرے مگر اس راہ میں بہت سی دشواریاں حائل تھیں۔گورنمنٹ سروس میں موجود مقامی لوگوں کی وابستگیاں اب برطانوی حکومت کی بجائے کسی نہ کسی سیاسی گروہ کے ساتھ ہو چکی تھیں۔سول سروس اور فوج میں انگریزوں کی تعداد پہلے کی نسبت بہت کم تھی۔پہلے ہندوستان میں موجود فوج میں گیارہ ہزار انگریز افسر تھے۔اب یہ تعداد کم ہو کر چار ہزار رہ گئی تھی۔اب انگریز اپنے طور پر ہندوستان کا نظم ونسق چلانے کے قابل نہیں تھے۔اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد اب برطانوی حکومت یا برطانوی عوام مزید انگریزوں کو ہندوستان بھجوانے پر آمادہ نہیں تھے۔ظاہر ہے کہ اپنے ملک کی تعمیر نو ان کی اولین ترجیح تھی۔وائسرائے لارڈ ویول کا خیال تھا کہ ابھی وزارتی مشن کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے اور اس مرحلے پر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا اعلان کرنے سے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور اس کے نتیجے میں خوفناک فسادات ہو سکتے ہیں جس کی ذمہ داری برطانوی حکومت پر عائد ہوگی۔مگر وزیر اعظم ایٹلے اس سے متفق نہیں تھے ان کا مؤقف تھا کہ اگر ہندوستان کی آزادی کی معین تاریخ کا اعلان کر دیا گیا تو اس مسئلے کو حل کرنا مقامی سیاستدانوں کی ذمہ داری بن جائے گی۔اس کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔برطانیہ زیادہ دیر تک یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔بالآخر لارڈ ویول نے استعفیٰ دے دیا۔اور ۲۰ فروری ۱۹۴۷ء کو وزیر اعظم نے برطانوی دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جون ۱۹۴۸ء تک اقتدار ہندوستان کے نمایندوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔اور یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ویول کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے وائسرائے کا عہدہ سنبھالیں گے۔کانگرس کے اکثر قائدین لارڈ ویول سے خوش نہیں تھے۔ماؤنٹ بیٹن دوسری جنگ عظیم کے دوران جنوب مشرقی ایشیا میں اتحادی افواج کے کمانڈر رہ چکے تھے۔جنگ کے خاتمے کے معاً بعد جب نہر وسیر کے لئے سنگاپور گئے تو وہاں ان کی ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات ہوئی۔اور یہیں سے دونوں کے درمیان دوستانہ مراسم کا آغاز ہوا۔