سلسلہ احمدیہ — Page 148
148 کچھ کرنا چاہئیے۔گاندھی جی نے جواب دیا کہ یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں میں نہیں کر سکتا۔آپ ایک جماعت کے لیڈر ہیں اور میں تو صرف ایک گاندھی ہوں۔حضور نے فرمایا کہ میں تو صرف پانچ سات لاکھ کا لیڈر ہوں اور ہندوستان میں پانچ سات لاکھ کیا کر سکتا ہے۔مگر انہوں نے یہی اصرار کیا کہ جو کچھ کر سکتے ہیں آپ ہی کر سکتے ہیں میں نہیں کر سکتا۔ان کے علاوہ کانگرس کے لیڈروں میں سے حضور نے دو مرتبہ ابوالکلام آزاد صاحب اور پھر پنڈت جواہر لال نہرو صاحب سے ملاقات فرمائی۔سروجنی نائیڈ و صاحبہ کو دو مرتبہ تار دی گئی مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ صلح کی اس مساعی میں حصہ نہیں لینا چاہتیں۔حضور نے ایک خط وائسرائے ہند کے نام بھجوایا کہ گو جماعت احمدیہ مذہبی جماعت ہونے کے ناطے سے من حیث الجماعت مسلم لیگ میں شامل نہیں ہے مگر موجودہ سیاسی بحران میں اس کی تمام تر اصولی ہمدردی مسلم لیگ کے ساتھ ہے۔اگر موجوده گفت وشنید ناکام ہو جائے تو اسے ناکامی قرار دینے کی بجائے التواء کی صورت قرار دیا جائے مگر جس نقطہ پر ناکامی ہوا سے پبلک کے علم کے لئے ظاہر کر دیا جائے۔۔جماعت کا ایک وفد لیاقت علی خان صاحب ، سر سلطان احمد نواب صاحب چھتاری اور سر فیروز خان نون صاحب سے ملا۔بعد میں فیروز خان نون صاحب اور نواب صاحب چھتاری حضور سے ملاقات کرنے کے لئے آئے۔ایک دعوت میں خواجہ ناظم الدین صاحب اور سردار عبدالرب نشتر صاحب نے بھی حضور سے ملاقات کی۔اسماعیلیوں کے پیشوا سر آغا خان صاحب نے لندن سے تار کے ذریعہ حضور کی کوششوں کے بارے میں نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ان کے علاوہ حضور کی ایک اہم ملاقات نواب صاحب بھوپال سے ہوئی۔نواب صاحب بھوپال کے گاندھی جی سے دوستانہ مراسم تھے۔انہوں نے گاندھی جی اور صدر مسلم لیگ محمد علی جناح صاحب کی ملاقات کروائی۔دونوں نے اس ملاقات میں ایک تحریری بیان پر دستخط کر دیئے جس کی رو سے انہوں نے تسلیم کر لیا کہ چونکہ اس وقت مسلم لیگ مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندگی کر رہی ہے اس لئے جمہوری روایات کی رو سے صرف اسے مسلمانوں کا نمایندہ کہلانے کا حق ہے۔مگر کانگرس اس بات کا اختیار رکھتی ہے کہ اگر چاہے تو کسی مسلمان کو اپنی طرف سے وزارت کے لئے نامزد کرے۔مگر پنڈت جواہر لال نہر وسمیت کانگرس کی قیادت نے گاندھی جی کے اس موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اس طرح گاندھی جی اسی طرح