سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 147 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 147

147 میں ریلیف کیمپ قائم کریں۔چنانچہ حضور کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے متعدد احمدی ڈاکٹروں، طالبعلموں اور دیگر رضا کاروں نے بہار میں امدادی کیمپ قائم کئے اور بہت سے مظلوموں کی خدمت کی توفیق پائی۔صوبائی حکومت کے تعاون کا عالم یہ تھا کہ جب ایک موقع پر مسلم لیگ کے خواجہ ناظم الدین صاحب اور ان کے ساتھیوں نے کیمپ کا دورہ کرنا چاہا تو صوبائی حکومت نے اس کی اجازت نہ دی۔غازی پور میں چار امن پسند اور معزز احمدی مظلوم مسلمانوں کی مدد میں پیش پیش تھے اور ان کی جائز شکایات حکام بالا تک پہنچاتے تھے۔حکومت نے ان کی خدمت کا یہ اجر دیا کہ پولیس نے ان پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں گرفتار کر لیا۔(۱۷ تا ۲۰) حضور کا سفر دہلی اور مفاہمت کی کوششیں: دانشمندی کا تقاضہ تو یہ تھا کہ مسلمان اور ہندو سیاستدان مل کر بیٹھیں اور ہندوستان کو اس بحران سے نکالنے کی کوشش کریں۔مگر ان کے باہمی تنازعات ختم ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے تھے۔وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہورہے تھے۔یہ نظر آرہا تھا کہ اگر کسی طرح مسلم لیگ کانگرس کے ساتھ عبوری حکومت میں شامل ہو جائے تو فاصلے کم ہونے کی صورت نکل سکتی ہے۔ستمبر میں حضور حالات کا جائزہ لینے کی غرض سے دہلی تشریف لے گئے تا کہ ملک کی صورتِ حال کے پس منظر میں جماعت احمدیہ کی پالیسی کے متعلق فیصلہ کیا جا سکے۔اس وقت دہلی میں اکثر سیاسی قائدین بھی موجود تھے۔۲ ستمبر کو پنڈت جواہر لال نہرو اور کانگرس کے مقرر کردہ دیگر وزراء حلف اٹھا چکے تھے۔اب کابینہ میں مسلم لیگ کے شامل ہونے یا نہ ہونے پر بات چیت چل رہی تھی۔۲۴ ستمبر کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور صدر مسلم لیگ قائد اعظم محمد علی جناح کے درمیان ملاقات ہوئی۔۲۷ ستمبر کو حضور گاندھی جی سے ملے۔گاندھی جی اس وقت ہندوستان کے سب سے با اثر سیاسی قائد تھے۔حضور نے ان سے فرمایا کہ آپ اور دوسرے سیاسی قائدین آپس میں لڑتے ہیں مگر اس کا وبال آپ لوگوں کی جان پر نہیں بلکہ ان ہزاروں لوگوں کی جان پر پڑتا ہے جو قصبوں اور دیہات میں رہتے ہیں اور تہذیب اور شائستگی نہیں سمجھتے۔وہ ایک دوسرے کو ماریں گے، ایک دوسرے کو لوٹیں گے اور ایک دوسرے کے گھروں کو جلائیں گے۔اس لئے اب آپ کو صلح کے لئے