سلسلہ احمدیہ — Page 141
141 ۱۹۴۶ء کو برطانوی حکومت نے ایک وزارتی مشن ہندوستان بھجوانے کا اعلان کیا۔لارڈ پیتھک لارنس (Pethick-Lawence)، سرسٹیفرڈ کرپس (Stafford Cripp)، اور اے وی الیگزینڈر (A۔V۔Alexander) اس کے ممبران تھے۔اس مشن کا کام وائسرائے لارڈ ویول کے ساتھ مل کر ہندوستان کی سیاسی راہنماؤں سے مذاکرات کرنا اور ہندوستان کے لئے ایک قابل عمل سیاسی ڈھانچہ تیار کرنا تھا۔۱۵ مارچ کو پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ ہندوستان میں مختلف نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ بستے ہیں۔اور اس وجہ سے بہت سی مشکلات پیدا ہوں گی۔لیکن ہندوستانیوں کو خودان مشکلات کا حل نکالنا ہوگا۔ہمیں اقلیتوں کے حقوق کا احساس ہے مگر اقلیتوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اکثریت کے آگے بڑھنے پر ویٹو کا حق استعمال کریں۔(۷) ۲۳ مارچ ۱۹۴۶ء کو کیبنٹ مشن دہلی پہنچ گیا۔4 اپریل کو حضور کا ایک مضمون 'پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض کے نام سے شائع ہوا۔حضور نے اس کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا پارلیمینٹری وفد ہندوستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ہندوستان میں وارد ہو چکا ہے۔مجھ سے کئی احمدیوں نے پوچھا ہے کہ احمدیوں کو ان کے خیالات کے اظہار کا موقع کیوں نہیں دیا گیا۔میں نے اس کا جواب ان احمدیوں کو یہ دیا۔کہ اول تو ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے۔( گومسیحوں کی انجمن کو کمیشن نے اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی ہے) دوسرے جہاں تک سیاسیات کا تعلق ہے۔جو حال دوسرے مسلمانوں کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا۔تیسرے ہم ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں۔اور پارلیمینٹری وفد اس وقت ان سے بات کر رہا ہے۔جو ہندوستان کے مستقبل کو بنایا بگاڑ سکتے ہیں۔دنیوی نقطہ نگاہ سے ہم ان جماعتوں میں سے نہیں ہیں۔“ پھر حضرت مصلح موعودؓ نے مشن کے ممبران کو نصیحت فرمائی کہ سیاسی معاملات میں بھی اخلاقی اصولوں کی پیروی کرنا ضروری ہے۔اور اگر موجودہ حکومت سابقہ حکومت کے وعدوں کو درست نہیں سمجھتی تو پھر گول مول بات کرنے کی بجائے واضح اعلان کرنا چاہئیے۔اگر ایسی حالت پیدا کی گئی جس کے نتیجے میں ایک اقلیت اپنے حقوق لینے سے محروم رہ جائے تو یہ صورتِ حال خود انگلستان کو مجرم