سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 5 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 5

5 قبائل جو ابھی تک اپنے قبائلی عقائد کے پیروکار تھے بڑی تعداد میں عیسائی ہو گئے۔اور مشرقی افریقہ میں عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں سے بہت بڑھ گئی۔لیکن اس کے باوجود یہ بات دلچسپ ہے کہ مغربی مصنفین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یوروپی اقوام کے تسلط کے دوران بھی باوجود اس کے کہ اس وقت اسلام کی تبلیغ کی کوئی منظم کوشش نہیں ہو رہی تھی ، ایک معقول تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا اور بعض عیسائی بھی مسلمان ہوئے۔(۱۲۱۱) مگر مجموعی طور پر عیسائیوں کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور وہ اثر ورسوخ اور تعلیم میں بھی آگے نکلتے جارہے تھے اور ان کے مقابل پر مسلمان دن بدن کمزور ہوتے جا رہے تھے۔اور اس وقت تمام دنیا کی طرح مشرقی افریقہ میں بھی اسلام طرح طرح کے خطرات میں گھرا ہوا تھا۔یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے روحانی فرزند کا ظہور ہوا اور تبلیغ اسلام کے جہاد کا نئے سرے سے آغاز ہوا۔اس خطے میں احمدیت کا پیغام حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی پہنچ گیا تھا۔سب سے پہلے احمدی جنہوں نے مشرقی افریقہ کے ساحل پر قدم رکھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت میاں محمد افضل صاحب تھے۔آپ ایک بحری جہاز SS Sindhia کے ذریعے ۱۸۹۶ء کے شروع میں ممباسہ پہنچے اور تقریباً تین برس مشرقی افریقہ میں قیام کیا اور پھر ہندوستان واپس آکر اخبار بدر جاری کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی آمد سے پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور سلسلے کے بعض اخبارات اس علاقے میں پہنچ چکے تھے۔ان دنوں کینیا یوگنڈا ریلوے کا کام شروع تھا اور ہندوستان سے بہت سے مزدور کلرک ڈاکٹر اور دوکاندار یہاں روزگار کے لئے آرہے تھے۔حضرت میاں محمد افضل صاحب نے ہندوستانیوں میں تبلیغ کا کام شروع کیا۔ان کی تبلیغی کاوش کو پھل لگنے شروع ہوئے اور اس کے نتیجے میں حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب جو حضرت حافظ روشن علی صاحب کے بڑے بھائی تھے احمدی ہو گئے۔ڈاکٹر صاحب بہت پر جوش داعی الی اللہ تھے۔آپ جس دن تبلیغ نہ کرتے آپ کو چین نہ آتا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی کوششوں کو ثمر آور کیا اور کئی پنجابی اور ہندوستانی احباب جماعت میں شامل ہونے لگے۔ان کے علاوہ بعض اور احمدی احباب بھی ہندوستان سے اس علاقے میں آگئے۔اس طرح حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی ممباسہ اور نیروبی