سلسلہ احمدیہ — Page 4
4 افریقہ بھجوایا۔اس علاقے کے با اثر مسلمانوں اور زنجبار کے بادشاہ سعید بن سلطان نے اسلام کی تبلیغ کے لئے تو کچھ نہیں کیا تھا البتہ عیسائی مشنری سے بھر پور تعاون کیا۔اس بادشاہ نے گورنروں کے نام ایک فرمان جاری کیا کہ یہ مشنری ایک اچھا شخص ہے اور لوگوں کو خدا کی طرف بلا رہا ہے۔اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور ہر ممکن سہولت مہیا کی جائے۔اس طرح ممباسہ کے قریب رہائی (Rabai) کے مقام پر پہلا عیسائی مشن قائم ہوا اور بعد میں وہاں سکول بھی کھولا گیا۔اس کے بعد یوروپی اقوام کا تسلط بڑھتا رہا اور مسلمانوں کی سیاسی قوت سکڑتی رہی۔مختلف عیسائی مشنری اداروں کے بہت سے مشنری مشرقی افریقہ آنا شروع ہوئے۔انہوں نے یوگنڈا اور دوسرے اندرونی علاقوں میں یہ پروپیگینڈا شروع کر دیا کہ اسلام آزاد انسانوں کو پکڑ کر غلام بنانے کو جائز قرار دیتا ہے اور ہم سب انسانوں کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں۔مسلمان اپنی کم علمی اور زبوں حالی کے باعث اس یلغار کا مقابلہ نہ کر سکے۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی رو سے ایک آزاد شخص کو پکڑ کر غلام بنانا اتنا بڑا گناہ ہے کہ حدیث کی رو سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے ظالم سے جنگ کرے گا اور وہ اگر نمازیں بھی پڑھے گا تو اس کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی (۴۳)۔اور اگر غلام چاہے تو مکاتبت کے ذریعہ اپنی آزادی حاصل کر سکتا ہے اور زکوۃ کے مال سے اس کی مدد کی جائے گی (۲۵)۔نبی اکرم ﷺ نے تو صرف ایک طمانچہ مارنے پر غلام کو آزاد کرنے کا حکم جاری فرما دیا تھا (۷)۔جبکہ بائیل کے قانون کی رو سے کوئی اپنے غلام کو مارے اور ان چوٹوں سے دو تین دن بعد اگر اس غلام کی موت ہو جائے تو اس قاتل مالک پر کوئی گرفت نہیں ہوگی کیونکہ وہ غلام اس کی ملکیت تھا (۹،۸)۔اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ کی عیسائی اقوام نے جتنی بڑی تعداد میں افریقہ کے آزاد باشندوں کو پکڑ کر غلام بنایا ہے، کسی اور قوم میں اس کی مثال نہیں ملتی ۱۶۰۰ ء تک نو لاکھ غلام صرف امریکہ پہنچائے جاچکے تھے۔سترہویں صدی میں یہ تعداد ستر لاکھ ہوگئی اور اٹھارہویں صدی کے دوران چالیس لاکھ اشخاص کو غلام بنا کر امریکہ بھجوایا گیا۔ان اعداد وشمار میں وہ تعدا شامل نہیں جو دوسرے علاقوں کی طرف بھیجے گئے تھے (۱۰) مگر اسلام کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا اور اندرونی علاقوں کے بہت سے قبائل مکمل حقائق نہیں جانتے تھے، اس لیے اس پرا پیگنڈا سے متاثر ہو جاتے تھے۔ان عیسائی مشنریوں کا طریق یہ تھا کہ کچھ غلاموں کو آزاد کرتے اور اپنا مبلغ بنا کر بھجواتے۔وہ