سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 111 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 111

111 وقف جائیداد کی تحریک: ۱۰ مارچ ۱۹۴۴ء کے خطبہ جمعہ میں ہی حضرت مصلح موعود نے جائداد کو وقف کرنے کی تحریک فرمائی۔اور فرمایا کہ جائیدادوں کو اس صورت میں وقف کیا جائے گا کہ یہ جائیداد فی الحال تو مالکان کے تصرف میں رہے گی لیکن جب سلسلے کی طرف سے ان سے مطالبہ کیا جائے گا تو انہیں وہ جائیداد اسلام کی اشاعت کے لئے پیش کرنے میں قطعاً کوئی عذر نہیں ہو گا۔اس تحریک میں سب سے پہلے حضور نے خود اپنی جائیداد وقف کی۔اس کے بعد حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور پھر نواب مسعود احمد خان صاحب نے اپنی جائیداد پیش کی۔حضور نے فرمایا کہ اس وقف کی صورت یہ ہوگی کہ ایک کمیٹی بنادی جائے گی۔اور جب اشاعت اسلام کے لئے کسی رقم کی ضرورت پڑے گی تو پہلے عام چندے کی تحریک کی جائے گی پھر جو کمی رہ جائے گی وہ نسبتی طور پر ان لوگوں میں تقسیم کی جائے گی جنہوں نے اپنی جائدادوں کو وقف کیا ہے۔اور ان کا اختیار ہو گا چاہے تو وہ نقد رقم دے دیں اور اگر چاہیں تو اپنی جائیداد فروخت یا گرو رکھ کر یہ رقم ادا کریں۔جن لوگوں کی کوئی جائیداد نہیں ہے لیکن وہ اس ثواب میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو وہ اپنی ایک یا دو یا تین ماہ کی آمد وقف کریں۔اور یہ عہد کریں کہ جب بھی سلسلے کی طرف سے مطالبہ ہوگا وہ یہ آمد پیش کریں گے خواہ ان کے بیوی بچوں کو کتنی ہی تنگی سے کیوں نہ گذرنا پڑے۔اس اعلان کے چند گھنٹوں کے اندراندر جماعت نے چالیس لاکھ روپے کی جائیدادیں حضور کی خدمت میں پیش کر دیں (۴)۔قادیان کی جماعت نے اس سلسلے میں شاندار نمونہ دکھایا۔دو ہزار سے زائد ا حباب نے اس تحریک میں حصہ لیا اور کروڑوں کی جائیداد کو حضور کی خدمت میں پیش کیا۔وقف زندگی کی تحریک جماعت کے نئے دور کی ضروریات کے پیش نظر اس بات کی ضرورت تھی کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں احمدی اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں وقف کریں۔چنانچہ حضور نے خطبہ جمعہ میں اس بارے میں تحریک کرتے ہوئے فرمایا ”ہماری ذمہ واریاں بے انتہا ہیں اور مشکلات کا کوئی اندازہ نہیں اور آخر جس طرح