سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 110 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 110

110 اور عام مومنوں میں کوئی امتیاز نہیں ہوسکتا۔حالانکہ خدا ہم سے دوسروں کی نسبت زیادہ امید کرتا ہے۔خدا ہم سے یہ نہیں چاہتا کہ ہم کچھ وقت دین کو دیں اور باقی وقت دنیا پر صرف کریں۔بلکہ خدا ہم سے یہ چاہتا ہے۔کہ ہم اپنی تمام زندگی خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔۔۔اگر وہ دنیا کے کام چھوڑ دیں۔تو اس کے نتیجہ میں فرض کرو ان کو فاقے آنے لگ جاتے ہیں۔تو پھر کیا ہوا۔سب کچھ خدا کی مشیت کے ماتحت ہوتا ہے۔اگر اس رنگ میں ہی کسی وقت اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لینا چاہے۔اور انہیں فاقے آنے شروع ہو جائیں۔تب بھی اس میں کون سی بڑی بات ہے۔(۱) اس ضمن میں سب سے پہلے تو حضور نے اپنی اولا د کوقربانیوں کے لئے پیش کیا۔خلافت ثانیہ میں ایک مرتبہ یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ نئے واقفین بہت کم تعداد میں سامنے آرہے ہیں۔اس مجلس مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے فرمایا۔چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول کی اپنے فعل سے تائید فرمائی۔اور اپنے سارے لڑکے اور لڑکیاں خدمتِ دین کے لیے وقف کر دیئے۔اور جوں جوں آپ کے بچے جوان ہوتے گئے۔آپ انہیں بلا کر ، ان پر واضح کرتے رہے کہ انہیں وقف کیلئے آگے آنا پڑے گا۔اور اگر وہ آگے نہ آئے تو آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔(۲) آپ کے دل میں اس بات کی تڑپ کہ حضرت مسیح موعود کی اولا دا اپنی زندگیاں خدمت دین میں صرف کرے اتنی شدید تھی کہ آپ نے یہ عہد اپنی اس نوٹ بک میں جو یا داشتوں کو درج کرنے کے لئے آپ کے کوٹ کی اندرونی جیب میں رہتی تھی لکھ کر رکھا ہو ا تھا " آج چودہ تاریخ (مئی ۳۹ ء) کو میں مرزا بشیر الدین محمود احمد اللہ تعالیٰ کی قسم اس پر کھاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سیدہ سے جو بھی اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت میں خرچ نہیں کر رہا میں اس کے گھر کا کھانا نہیں کھاؤں گا اور اگر مجبوری یا مصلحت کی وجہ سے مجھے ایسا کرنا پڑے تو میں ایک روزہ بطور کفارہ رکھوں گا یا پانچ روپے بطور صدقہ ادا کروں گا یہ عہد سر دست ایک سال کے لئے ہوگا۔مرزا محمود احمد (۳)