سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 98 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 98

98 کی وہ پیش گوئی مقرر کردہ مدت کے اندر اندر پوری ہو گئی جس کے گواہ خود آریہ بنے تھے۔حضرت مسیح موعود نے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کو شائع فرما دیا اور آریوں کو چیلنج دیا کہ قادیان کے آریوں سے دریافت کریں کہ انہیں قبل از وقت یہ پیشگوئی بتا کر ان کے دستخط لئے گئے تھے یا نہیں۔مگر اس کے جواب میں حق کے نام نہاد طالبوں کو سانپ سونگھ گیا اور وہ حسب وعدہ اپنی گواہی مشتہر کرنے سے قاصر رہے۔(۷) اس کے بعد اس گروہ کو یہ ذلت بھی دیکھنی پڑی کہ تین سال گذر گئے اور ان کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود اور آپ کے سلسلے کا خاتمہ نہ ہوا، بلکہ خارق عادت ترقی کا دور شروع ہو گیا۔اب یہ ظاہر ہو چکا تھا کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔شرافت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ یہ نشان دیکھنے کے بعد لیکھرام اور دوسرے آریہ کم از کم خاموش ہی ہو جاتے مگر ان کی بدزبانی اور زیادہ بڑھ گئی۔چنانچہ ۲۰ فروری ۱۸۹۳ نکو حضرت مسیح موعود نے اللہ تعالیٰ کے حضور لیکھرام کے لیے مقدر عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لیے توجہ کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منکشف ہوا کہ اس پر چھ سال کے اندر ایک سخت عذاب آئے گا۔حضور نے اس پیشگوئی کو شائع فرما دیا (۸) ۲ مارچ ۱۸۹۷ء کولیکھرام خدا کے غضب کا نشانہ بن کر ایک ایسے شخص کی چھری کا شکار ہو گیا، جو شدھ ہونے کے لئے پنڈت لیکھرام کے پاس آیا تھا۔خدا کے حضور شوخی اور بیبا کی سے بھی جلد عذاب آتا ہے۔مگر لیکھرام کا جرم صرف اتنا ہی نہ تھا۔اس نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا اور الہام کا جھوٹا وعدہ کیا تھا۔اس کی پاداش میں قرآنی وعدے کے مطابق اسے قطع ورید کی سزا ملی اور اسے لمبی مہلت نہ دی گئی۔اور اس کی پیشگوئیوں کا آج تک جو حشر ہو رہا ہے ہم اس کا ذرا ٹھہر کر جائزہ لیتے ہیں۔خدا کے وعدے سچے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ۱۲ جنوری ۱۹۸۹ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی پیدائش ہوئی اور آپ منصب خلافت پر فائز ہوئے اور وقت کے ساتھ پیشگوئی مصلح موعود میں درج تمام علامات ایک ایک کر کے آپ کی ذات میں پوری ہوتی گئیں۔آپ کی بیعت میں داخل احباب کو تو یہ نظر آ ہی رہا تھا ، خدا کی یہ فعلی شہادت اتنی واضح تھی کہ حضرت مولوی غلام حسن صاحب جیسے بہت سے احباب جو ابتداء میں غیر مبائعین میں شامل تھے اور ان کے اکابرین میں سے تھے ، اس نشان کو دیکھ کر آپ کے حلقہ بیعت میں شامل ہو گئے۔لیکن