سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 86 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 86

۸۶ کو اختیار کریں۔میں تجھے پہچانتا ہوں کہ تو ہی میرا خدا ہے اس لئے میری روح تیرے نام سے ایسی اچھلتی ہے جیسا کہ شیر خوار بچہ ماں کے دیکھنے سے۔لیکن اکثر لوگوں نے مجھے نہیں پہچانا اور نہ قبول کیا۔اس لئے نہ میں نے بلکہ میری روح نے اس بات پر زور دیا کہ میں یہ دعا کروں کہ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں۔تو میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندہ کے لئے گواہی دے جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلا تا ہوں اور کہتا ہوں رَبِّ إِنِّي مَغْلُوبٌ۔مگر بغیر فانتصر کے۔اور میری روح دیکھ رہی ہے کہ خدا میری سنے گا “ لے آپ نے اپنی طرف سے اس دعا کی قبولیت کے لئے تین سال کی میعاد پیش کی یعنی خدا سے استدعا کی کہ وہ تین سال کے عرصہ میں آپ کے حق میں کوئی ایسا نشان ظاہر فرمائے جو رجوع عام کا باعث ہو۔اسی طرح آپ نے ان ایام میں ایک فارسی نظم لکھ کر شائع فرمائی جو مناجات کے رنگ میں ہے اور نہایت دردناک ہے۔اس نظم میں آپ فرماتے ہیں:۔اے قدیر و خالقِ ارض و سما اے رحیم و مهربان و رہنما اے کہ میداری تو بر دلها نظر اے کہ از تو نیست چیزی مستتر گر تو می بینی مرا پر فسق و شر گر تو دید استی که هستم بد گہر پاره پاره کن من بدکار را شادکن ایس زمرہ اغیار را بر دل شاں ابر رحمت با بیار ہر مراد شان بفضل خود برآر آتش افشان بر در و دیوار من دشمنم باش و تباه کن کار من در مرا از بندگانت یافتی قبله من آستانت یافتی اشتہار مورخه ۵/ نومبر ۱۸۹۹ء مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۲۲ تا ۳۲۷ جدید ایڈیشن