سلسلہ احمدیہ — Page 85
۸۵ اس دعا میں مصروف تھے کہ خدا کی طرف سے کوئی ایسے فوق العادت نشان ظاہر ہوں جو لوگوں کی گردنوں کو جھکا کر حق کی طرف مائل کر دیں۔۱۸۹۹ ء کا سال اس احساس اور اضطراب کے معراج کا زمانہ تھا۔چنانچہ اس زمانہ میں جو اشتہارات آپ نے شائع فرمائے یا جو تصانیف لکھیں ان میں سے اکثر میں یہی احساس اور یہی اضطراب جھلکتا نظر آتا ہے اور میں اپنے ناظرین کو آپ کے قلبی جذبات کا نظارہ دکھانے کے لئے اس جگہ آپ کے بعض اقتباسات درج کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔”اے میرے حضرت اعلیٰ ذوالجلال، قادر ، قدوس، حی و قیوم جو ہمیشہ راستبازوں کی مدد کرتا ہے تیرا نام ابدالا با دمبارک ہے۔تیرے قدرت کے کام کبھی رک نہیں سکتے تیرا قوی ہاتھ ہمیشہ عجیب کام دکھلاتا ہے۔تو نے ہی اس چودھویں صدی کے سر پر مجھے مبعوث کیا۔مگر اے قادر خدا تو جانتا ہے کہ اکثر لوگوں نے مجھے منظور نہیں کیا اور مجھے مفتری سمجھا اور میرا نام کا فر اور کذاب اور دجال رکھا گیا۔مجھے گالیاں دی گئیں۔اور طرح طرح کی دل آزار باتوں سے مجھے ستایا گیا۔۔۔سواے میرے مولا قادر خدا ! اب مجھے راہ بتلا اور کوئی ایسا نشان ظاہر فرما جس سے تیرے سلیم الفطرت بندے نہایت قوی طور پر یقین کریں کہ میں تیرا مقبول ہوں اور جس سے ان کا ایمان قوی ہو اور وہ تجھے پہچانیں اور دنیا میں تیرا جلال چمکے اور تیرے نام کی روشنی اس بجلی کی طرح دکھلائی دے کہ جو ایک لمحہ میں مشرق سے مغرب تک اپنے تئیں پہنچاتی اور شمال وجنوب میں اپنی چمکیں دکھلاتی ہے۔۔دیکھ! میری روح نہایت توکل کے ساتھ تیری طرف ایسی پرواز کر رہی ہے جیسا کہ پرندہ اپنے آشیانہ کی طرف آتا ہے۔سو میں تیری قدرت کے نشان کا خواہشمند ہوں۔لیکن نہ اپنے لئے اور نہ اپنی عزت کے لئے۔بلکہ اس لئے کہ لوگ تجھے پہچانیں اور تیری پاک راہوں۔