سلسلہ احمدیہ — Page 51
۵۱ خاتمہ ہو جائے گا سو یہ تینوں پیشگوئیاں اپنے اندر نہایت لطیف اشارے رکھتی ہیں مگر افسوس کہ کور چشم لوگوں نے ان کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور اعتراض کی طرف جلدی کی مگر دنیا اپنے وقت پر دیکھ لے گی کہ یہ ایک زبر دست خدائی تقدیر ہے جو بہر حال پوری ہوکر رہے گی۔پیشگوئیوں کے متعلق دو بنیادی اصول:۔پیشگوئیوں کے متعلق عمومی طور پر حضرت مسیح موعود نے ان بحثوں کے دوران میں یہ نکتہ بھی بیان کیا اور دراصل یہ نکتہ سارے معجزات پر یکساں چسپاں ہوتا ہے کہ چونکہ ایمان کے معاملہ میں بالکل شہود کا رنگ پیدا ہو جانا جو نصف النہار کےسورج کی طرح ہو ایمان کی غرض و غایت کے خلاف ہے جس کے بعد ایمان لانا چنداں ثواب کا موجب نہیں رہتا اس لئے اللہ تعالیٰ معجزات میں ایک حد تک اخفا کا پردہ ضرور رکھتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ شبہ پیدا ہونے کے سارے راستے بالکل مسدود ہو جائیں اور آپ نے اس کی مثال یوں بیان کی کہ معجزات کے نتیجہ میں اس قسم کی روشنی پیدا ہوتی ہے کہ جیسے ایک چاندنی رات کی روشنی ہو جس کے کسی حصہ میں کچھ بادل بھی ہوایسی حالت میں ایک طرف روشنی کی تیزی بھی نہیں ہوتی بلکہ صرف مدھم سی روشنی ہوتی ہے اور دوسری طرف آنکھیں رکھنے والوں کو رستہ بھی نظر آتا ہے اور وہ مختلف چیزوں میں تمیز کر سکتے ہیں۔پس ایمان کے ابتدائی مرحلوں میں اس سے زیادہ روشنی پیدا نہیں کی جاتی تاکہ مومن اور منکر میں امتیاز رہے اور ایمان لانا موجب ثواب سمجھا جاوے ورنہ بالکل شہود کے بعد ثواب کا کوئی سوال نہیں رہتا۔پس آپ نے تشریح فرمائی کہ یہ جو نبیوں کی بعض پیشگوئیوں میں یا دوسرے معجزات میں کسی قدر اشکال نظر آتا ہے اور شبہ کی گنجائش باقی رہتی ہے یہ بھی خدائی منشاء کے ماتحت ضروری ہے۔پس بجائے ہر پیشگوئی کے ہر پہلو کو کریدنے اور فرضی شبہات پیدا کرنے کے ایک عمومی نظر کے ساتھ دیکھنا چاہئے کہ کیا نتیجہ پیدا ہوتا ہے مثلاً اگر کسی مامور من اللہ کی ایک سو پیشگوئیاں ہوں اور ان پیشگوئیوں میں سے ایک بھاری کثرت صفائی سے پوری ہو جائے جس میں کسی معقول شبہ کی گنجائش نہ ہو اور صرف بعض میں کسی حد تک شبہ کی صورت پیدا ہو تو اس کی وجہ سے اس مامور من اللہ کو رد نہیں کرنا چاہیئے۔ہاں یہ ضرور دیکھنا