سلسلہ احمدیہ — Page 50
۵۰ فضل سے اپنی اپنی شرائط کے مطابق کمال صفائی کے ساتھ پوری ہوئیں۔مگر ان پیشگوئیوں کے انفرادی پہلو کی نسبت ان کا قومی پہلو اور بھی زیادہ اہم اور زیادہ وسیع الاثر ہے۔کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب ”شہادۃ القرآن میں اشارہ کیا ہے یہ پیشگوئیاں اس تقدیر الہی کو ظاہر کرتی ہیں جو خدا نے ان ہر سہ قوموں کے متعلق مقدر کر رکھی ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن دو مسلمانوں کے متعلق پیشگوئی تھی ان میں سے ایک مقررہ میعاد کے اندر اندر مر گیا اور دوسرا خائف ہوکر اور مخالفت سے کنارہ کش رہ کر حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخر تک خدائی گرفت سے بچا رہا۔اور عیسائیوں میں سے جس شخص کے متعلق پیشگوئی تھی اس نے ڈر ڈر کر وقت گزارا اور دل میں اسلام کی صداقت اور حقانیت سے مرعوب ہوا اس لئے وہ مقررہ میعاد میں تو بچ گیا مگر جب بعد میں اس نے حق پر پردہ ڈالا تو پیشگوئی کے اصل منشاء کے ماتحت حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی اپنے انجام کو پہنچ گیا اور آریوں میں سے جس شخص کے متعلق پیشگوئی تھی اس نے سامنے سے شیخی اور دلیری کا طریق اختیار کیا اور اسلام کے مقابلہ میں تکبر کے ساتھ ڈٹا رہا اس لئے وہ خدا کے رحم سے کلیہ محروم رہا اور مقررہ میعاد کے اندر اندر عبرتناک حالات میں اس جہان سے رخصت ہوا۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود جوان تینوں پیشگوئیوں میں اسلام اور احمدیت کے نمائندہ تھے وہ نہ صرف ہر تکلیف سے محفوظ رہے بلکہ خدا نے آپ کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی نصیب کی۔اس طرح ان پیشگوئیوں نے بتا دیا کہ احمدیت اور اسلام کے مقابلہ پر ان تین قوموں کے ساتھ خدا کا کیا سلوک ہوگا۔اور وہ یہ کہ غیر احمدی مسلمانوں کا ایک حصہ تو احمدیت کے مقابلہ پر آ کر جلد مٹ جائے گا اور دوسرا حصہ دب کر اطاعت اختیار کرے گا اور بچ جائے گا یا مہلت پائے گا اور عیسائی قوم اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر دل میں مرعوب ہوگی اور ایک وقت تک خدائی گرفت سے بچی رہے گی مگر جب وہ حق پر پردہ ڈالنے کا طریق اختیار کرے گی اور اس کا رویہ صداقت کے رستہ میں روک بننے لگے گا تو پکڑی جائے گی اور پھر اس کی صف اس دنیا سے عملاً لپیٹ دی جائے گی اور اس کے بعد وہ زندہ قوموں میں شمار نہیں ہوگی اور آریہ لوگ احمدیت اور اسلام کے مقابلہ پر شوخ رہیں گے اس لئے وہ جلد مٹا دیئے جائیں گے اور ان کی قومی زندگی کا جلد