سلسلہ احمدیہ — Page 421
۴۲۱ کام میں لائیں۔سوخدا نے چاہا تو آج سے چند دن کے اندر اندر جبکہ یہ رسالہ انشاءاللہ دوستوں کے ہاتھ میں ہوگا یہ تقریب سعید عمل میں آجائے گی۔اور جماعت اپنی عقیدت اور شکر وامتنان کے پھول اپنے محبوب امام کے قدموں پر رکھ چکی ہوگی۔مگر جس خاص غرض کے لئے میں نے اس ذکر کو اس جگہ داخل کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح ثانی کو اس سلسلہ میں بھی جماعت کی تربیت کا از حد خیال ہے چنانچہ آپ متعدد مرتبہ جماعت کو یہ نصیحت فرما چکے ہیں کہ اگر یہ تقریب محض رسم کے طور پر ہے اور دنیا کی نقل میں ایک قدم اٹھایا جا رہا ہے تو اس میں میری خوشی کا کوئی حصہ نہیں اور نہ میں اس صورت میں جماعت کو اس کی اجازت دے سکتا ہوں۔لیکن اگر آپ لوگوں نے اسے دنیا کی رسومات اور دنیا کی نمائشوں کے طریق سے پاک رکھ کر ایک خالص دینی خوشی کا رنگ دینا ہے اور اسے ان عیدوں کی طرح منانا ہے جس طرح اسلام اپنی عیدوں کے منانے کا حکم دیتا ہے تو اس قسم کا جو قدم بھی اٹھایا جائے وہ مبارک ہے اور میں اسے روکنا نہیں چاہتا۔پس اس وقت جہاں ہر احمدی کا دل شکر و محبت کے انتہائی جذبات کے ساتھ لبریز ہے وہاں ہر احمدی کا ہاتھ بھی خدا کے حضور اس دعا کے ساتھ اٹھ رہا ہے کہ خدایا تو نے جس طرح ان گزرنے والے سالوں کو خوشی اور کامیابی اور کامرانی کے ساتھ پورا کیا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر آنے والے سالوں کو بھی ہمارے لئے مبارک کر اور ہماری اس جو بلی کو اس عظیم الشان جو بلی کا پیش خیمہ بنادے جو تیرے جلال کے انتہائی ظہور کے بعد آنے والی ہے۔اور اے ہمارے مہربان آقا! تو ہمارے اس امام کو جس کی مبارک قیادت میں جماعت نے تیری ہزاروں برکتوں سے حصہ پایا ہے ایک لمبی اور با مراد زندگی عطا کر اور اس کے آنے والے عہد کو گزرنے والے عہد کی نسبت بھی زیادہ مقبول اور زیادہ شاندار اور زیادہ مبارک بنادے۔آمین ثم آمین۔