سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 420 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 420

۴۲۰ پاس وقت اور جگہ دونو محدود ہیں اور مجھے یہ طاقت حاصل نہیں کہ ایک وسیع در یا کوزے میں بند کر دوں۔پس میں اب آپ لوگوں سے معافی چاہتے ہوئے خلافت جو بلی کی تقریب پر جو اس وقت ہمارے سامنے ہے ایک چلتی ہوئی نظر ڈال کر آپ سے رخصت ہوتا ہوں مگر اس دعا کے ساتھ کہ اگر میری اس ناچیز خدمت نے خدا کے دربار میں مقبولیت کا شرف پایا ہے تو اگلی صحبت مجھے اس قبولیت کے رستے میں اور آگے لے جائے۔خلافت جو بلی :۔حضرت خلیفہ مسیح ثانی ۱۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء کومسند خلافت پر متمکن ہوئے تھے اور اس طرح ۱۳/ مارچ ۱۹۳۹ء کو آپ کی خلافت پر ہاں کا میاب و کامران۔مظفر و منصور۔مبارک و مسعود۔شاہد و مشہود۔عامر و معمور۔خلافت پر چھپیں سال کا عرصہ پورا ہو گیا۔صداقت اور خدمت کی شان عرصوں اور زمانوں کی قید سے بالا ہے اور اچھے کام کی ایک گھڑی بریکار وقت کے ہزار سال سے بہتر۔مگر ان چھپیں سالوں کی شان کا کیا کہنا ہے جس کا ایک ایک لمحہ خدمت خلق اور اعلاء کلمہ اللہ میں گزرا۔جس کی ابتداء نے جماعت احمدیہ کو انشقاق و افتراق کی پُر خطر وادی میں گھرا ہوا پایا مگر جس کی انتہا آج اسے ایک مضبوط اور متحد دستہ کی صورت میں ایک بلند پہاڑ پر دیکھ رہی ہے۔یہ ایک فطری امر ہے کہ محبوب کی کامیابی انسان کے دل میں شکر و امتنان کے جذبات کے ساتھ ساتھ مسرت و انبساط کی لہر بھی پیدا کر دیتی ہے۔اور خدا بھلا کرے چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کا کہ اس لہر نے پہلی حرکت انہی کے دل میں پیدا کی۔اور انہوں نے آج سے قریباً دو سال پہلے آنے والی خوشی کی گرمی کو محسوس کر کے اس تجویز کی داغ بیل رکھی کہ حضرت خلیفہ امسیح ثانی کی خلافت کے پچیس سال پورے ہونے پر جماعت کی طرف سے خوشی اور شکر کے اظہار کے لئے ایک تقریب کی صورت پیدا کی جائے اور اس مبارک تقریب پر جماعت اپنی طرف سے کچھ رقم (چوہدری صاحب نے تین لاکھ روپے کی رقم تجویز کی ) حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کی خدمت میں اس درخواست کے ساتھ پیش کرے کہ حضور اس رقم کو جماعت کی طرف سے قبول کر کے جس مصرف میں پسند فرمائیں