سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 33 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 33

٣٣ حضرت مسیح موعود کے خلاف کفر اور بائیکاٹ کا فتوی:۔مسیح اور مہدی کی بحث کے متعلق ان تصریحات نے جن کے ساتھ زبر دست دلائل بھی شامل تھے آپ کے متبعین کی ہمتوں کو بلند کر دیا اور مسلمانوں کے ایک حصہ کو بھی آپ کی طرف کھینچنا شروع کر دیا مگر جمہور مسلمان اپنے علماء اور سجادہ نشینوں کی اتباع میں لحظہ بلحظہ مخالفت میں ترقی کرتے گئے اور علماء کے فتووں نے ملک میں ایک آگ لگادی اور علماء نے صرف قولی فتوی ہی نہیں لگایا یعنی آپ کو صرف عقیدہ کے لحاظ سے ہی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا بلکہ یہ بھی اعلان کیا کہ حضرت مرزا صاحب اور آپ کے متبعین کے ساتھ کلام سلام اور ہر قسم کا تعلق نا جائز اور حرام ہے اور ان کے ساتھ مسلمانوں کا رشتہ ممنوع ہے اور یہ کہ مسلمانوں کے قبرستانوں میں بھی انہیں دفن کرنے کی اجازت نہیں۔ان عملی فتووں نے ملک میں ایک نہایت خطر ناک حالت پیدا کر دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مٹھی بھر جماعت چاروں طرف سے مخالفت کے طوفان میں گھر گئی اور اس طوفانِ عظیم میں احمدیت کی چھوٹی سی ناؤ اس طرح تھپیڑے کھانے لگی کہ لوگوں نے سمجھا کہ بس یہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔ہم اس فتوے کی گالیوں اور گندے حصوں کو چھوڑ کر اس کے بعض الفاظ مثال کے طور پر درج ذیل کرتے ہیں تا کہ ہمارے ناظرین کو یہ پتہ لگ سکے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کے متعلق اوائل زمانہ میں کیا کچھ کہا گیا ہے۔علماء اسلام نے جن میں بڑے بڑے چوٹی کے علماء شامل تھے آپ کے متعلق لکھا کہ :۔”مرزا قادیانی ان تہیں دجالوں میں سے ایک ہے جن کی خبر حدیث میں وارد ہے اور اس کے پیرو ذریت دجال ہیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے دجال کذاب سے احتر از اختیار کریں اور اس سے وہ دینی معاملات نہ کریں جو اہل اسلام میں باہم ہونے چاہئیں۔نہ اس کی صحبت اختیار کریں نہ اس کی دعوت قبول کریں نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔۔۔وہ اور اس