سلسلہ احمدیہ — Page 32
تھی۔اور آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ مسیح کے جلالی ظہور سے یہ مراد نہیں کہ وہ تلوار کے ساتھ ظاہر ہوگا بلکہ اس میں اس کی روحانی طاقتوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ مسیح کی دوسری آمد اس کی پہلی آمد کی نسبت زیادہ شاندار ہوگی اور اللہ تعالیٰ اسے دوسری آمد میں زیادہ کامیابی اور زیادہ غلبہ عطا کرے گا اور دجال کے متعلق جس نے مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہونا تھا آپ نے یہ تشریح فرمائی کہ اس سے کوئی فرد واحد مراد نہیں بلکہ ایک قوم اور ایک فرقہ ضالہ مراد ہے جو اپنی بے دینی کی طاقتوں کے ساتھ دنیا میں فساد عظیم کے پھیلانے کا موجب ہوگا اور آپ نے بتایا کہ اس سے مسیحیت کی فوجوں کی طرف اشارہ ہے جو مسیح ناصری کی حقیقی تعلیم کو چھوڑ کر دنیا میں دہریت اور مادیت کے انتشار کا آلہ بنی ہوئی ہیں۔اے مہدویت کا دعویٰ اور خونی مہدی سے انکار :۔اسی طرح آپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام میں جس مہدی کا مسیح کے زمانہ میں وعدہ کیا گیا تھا وہ میں ہوں مگر یہ کہ میں کسی جنگی مشن کے ساتھ مبعوث نہیں کیا گیا بلکہ میرا کام امن اور صلح کے طریق پر مقرر ہے اور آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں جو ایک خونی مہدی کا خیال پیدا ہو چکا ہے یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے جس کے متعلق قرآن شریف اور صحیح احادیث میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔بلکہ یہ خیال بھی بعض استعاروں کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جو عموماً پیشگوئیوں میں اختیار کئے جاتے ہیں اور آپ نے لکھا کہ جہاد کرنے والے اور کافروں کو مارنے والے مہدی سے صرف یہ مراد ہے کہ آنے والا مہدی ایسے مضبوط اور زبردست دلائل کے ساتھ ظاہر ہو گا کہ اس کے مقابل پر گویا اس کے مخالفوں پر موت وارد ہو جائے گی۔آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ مہدی اور مسیح الگ الگ وجود نہیں ہیں بلکہ ایک ہی شخص کی دو مختلف حیثیتوں سے اسے یہ نام دیا گیا ہے یعنی مثیل مسیح ہونے کے لحاظ سے آنے والے موعود کا نام مسیح ہے اور آنحضرت یہ کے ظل اور بروز ہونے کے لحاظ سے اس کا نام مہدی ہے ورنہ دراصل وہ ایک ہی ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں بھی آتا ہے کہ مسیح موعود کے سوا اور کوئی مہدی نہیں۔۲؎ ل دیکھو ازالہ اوہام مہدی کی بحث مختلف کتب میں درج ہے مثلاً دیکھوازالہ اوہام اور آئینہ کمالات اسلام اور نور الحق اور حقیقت المہدی وغیرہ