سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 418 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 418

۴۱۸ کے ماتحت حضرت خلیفہ اسیح کی ہدایت یہ ہے کہ ” خدام الاحمدیہ ہر دوسرے مہینہ ایک دن ایسا منایا کرے جس میں قادیان کے سارے احمدی مرد ( یعنی بچے جوان اور بوڑھے ) بلا امتیاز حیثیت اکٹھے ہو کر کسی قسم کے رفاہ عام کے کام میں اپنے ہاتھ سے مزدوروں کی طرح کام کیا کریں اور اس وقت ہر غریب و امیر اور افسر و ماتحت اور نوکر و آقا اور خور دو کلاں اپنے سارے امتیازات کو ایک طرف رکھ کر مزدور کے لباس میں حاضر ہو جایا کرے۔چنانچہ یہ دن با قاعدہ منایا جاتا ہے اور اس دن کا نظارہ بہت ہی روح پرور ہوتا ہے۔کیونکہ اس دن سب لوگ بلا امتیاز اور بلا تفریق ایک ہی کام میں ہاتھ ڈال کر اسلامی مساوات کی روح کو زندہ کرتے ہیں۔اگر آقا کے ہاتھ میں ٹوکری ہوتی ہے تو نوکر کسی سے مٹی کھودتا ہے اور اگر آقامٹی کھودتا ہے تو نوکر ٹوکری اٹھائے پھرتا ہے۔اور غریب وامیر اور افسر و ماتحت سب مٹی کے اندرلت پت نظر آتے ہیں۔یہ سلسلہ کئی گھنٹہ تک جاری رہتا ہے اور پھر اس عمل محبت کو روحانیت کا خمیر دینے کے لئے ایک گھنٹی بجتی ہے اور سب لوگ کام سے ہاتھ کھینچ کر خدا کے دربار میں دعا کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اور یہاں پھر وہی محتاج وغنی کی مساوات اپنا رنگ دکھاتی ہے۔یہ سلسلہ کئی لحاظ سے بہت مفید ثابت ہو رہا ہے۔اوّل اس طرح ہر شخص کو ہاتھ سے کام کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے اور مغرور انسان اس مکروہ جذبہ سے رہائی پاتا ہے۔کہ بعض کام میری شان سے نیچے ہیں۔دوم آپس میں اخوت و مساوات اور اختلاط کی روح ترقی کرتی ہے اور سوسائٹی کے مختلف طبقات میں کسی قسم کی نا گوار لیج حائل ہونے نہیں پاتی۔سوم بعض مفید قومی یا شهری کام آخر بری طریق پر بغیر کسی خرچ کے سرانجام پا جاتے ہیں اور پھر جب کبھی خود حضرت خلیفتہ اسیح اس مبارک تقریب میں شریک ہو جاتے ہیں اور گردوغبار سے ڈھکے ہوئے ادھر ادھر ٹوکری اٹھائے پھرتے نظر آتے ہیں تو پھر تو یہ وقار مل کا سبق دنیا کے سارے سبتوں میں سے زیادہ گہرا اور زیادہ دیر نقش پیدا کردیتا ہے۔حضرت خلیفہ اسی کے خطبات و تقاریر : حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح ثانی کے عہد خلافت کی تصویر نامکمل رہے گی اگر آپ کے خطبات اور تقاریر کا ذکر نہ کیا جاوے کیونکہ آپ کے سوانح