سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 417 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 417

۴۱۷ خدام الاحمدیہ :۔۱۹۳۸ کے شروع میں حضرت خلیفتہ امی نے خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی۔اس کی بڑی غرض و غایت جماعت کے نوجوانوں کی تنظیم و تربیت تھی تا کہ ان نو نہالوں کو اس اہم کام کے قابل بنایا جا سکے جو کل کو ان کے کندھوں پر پڑنے والا ہے۔اس انجمن کے موجودہ پروگرام میں منجملہ دیگر امور کے مندرجہ ذیل باتیں زیادہ نمایاں ہیں :۔اوّل خدمت خلق یعنی خدام الاحمدیہ کے ہر ممبر کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو صحیح معنوں میں ملک وقوم کا خادم بنائے اور خادم بن کر رہے اور اس انجمن کا یہ فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ممبروں میں خدمت خلق کے جذبہ کو ترقی دے۔دوم لوگوں کے دلوں میں اس احساس کو پیدا کرنا اور انہیں اس کی عملی تربیت دینا کہ کوئی کام بھی انسان کی شان سے بعید نہیں اور یہ کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا انسان کے لئے موجب عزت ہے نہ کہ باعث ذلت و شرم۔سوم جماعت کے ناخواندہ لوگوں کی پرائیویٹ تعلیم کا انتظام کرنا تا کہ کوئی احمدی ایسا نہ رہے جو ان پڑھ ہو۔بلکہ ہر احمدی تعلیم کے اقل معیار کو پہنچ جائے۔اور اس غرض کے لئے لوگوں کی آنریری خدمات لے کر رات کے پرائیویٹ مدارس وغیرہ قائم کرنا۔چہارم جماعت کے اندر خلیفہ وقت اور نظام سلسلہ کے متعلق جذبات اخلاص و محبت و وفاداری کو ترقی دینا۔وغیرہ وغیرہ سوخدا کے فضل سے یہ سارے کام ” خدام الاحمدیہ کے ذریعہ سے بڑی خوبی کے ساتھ سر انجام پا رہے ہیں۔اور یہ تنظیم احمدی نوجوانوں میں ایک غیر معمولی قوت عمل اور خدمت خلق کا جذبہ پیدا کر رہی ہے مگر افسوس ہے کہ میں اس جگہ ان کاموں کی تفصیل میں نہیں جاسکتا۔البتہ نمونہ کے طور پر مختصر الفاظ میں صرف اس کوشش کا ذکر کئے دیتا ہوں جو وقار عمل کے شعبہ میں کی جارہی ہے۔اس غرض