سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 413 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 413

۴۱۳ کے طور پر مرکزی نظام کے سپر دکر دے وغیرہ وغیرہ۔پنجم سلسلہ کی ضروریات کے لئے ایک مستقل ریز روفنڈ قائم کیا جائے جو کم از کم پچیس لاکھ روپے کا ہو اور اس سے ایسی محفوظ اور فائدہ مند جائداد پیدا کی جاوے جس کا نفع سلسلہ کے تبلیغ کی موجودہ اور عام ضروریات کے لئے مکتفی ہو سکے۔ششم مگر بایں ہمہ آئندہ جہاں تک ممکن ہو ظاہری اسباب کے ماتحت سلسلہ کے کاموں کی بنیا دروپے پر نہ رکھی جائے بلکہ کارکنوں کے اخلاص اور جانفشانی پر اس کی بنیاد ہو اور جماعت میں اس روح کو ترقی دی جائے کہ لوگ آنریری خدمات پیش کر کے یا کم تنخواہیں لے کر زیادہ کام کرنے کی عادت ڈالیں۔اسی ذیل میں یہ بھی تحریک کی جائے کہ جولوگ اپنی ملازمتوں سے ریٹائر ہو جائیں وہ اس کے بعد قادیان آ کر آباد ہوں اور اپنی آنریری خدمات سلسلہ کے سپرد کر دیں۔وغیرہ وغیرہ یہ اس’ تحریک جدید کے اصولوں کا ایک مختصر ڈھانچہ ہے جو حضرت خلیفتہ امسح ثانی نے ۱۹۳۴ء کے آخر میں جماعت احمدیہ کے سامنے پیش فرمائی۔اس تحریک کے مالبات انیس تھے جنہیں ہم نے اختصار کے خیال سے چھ جامع فقروں میں جمع کر دیا ہے اور ہم نے اس جگہ دانستہ بعض حصوں کی تفصیل بیان نہیں کی۔کیونکہ اس سکیم کے بعض پہلو ایسے ہیں کہ ان کے تفصیلی اظہار سے جماعت کے دشمن ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ممکن ہے کہ ہمارے بعض ناظرین جوز زیادہ گہرے مطالعہ کی عادت نہیں رکھتے یہ خیال کریں کہ ان باتوں میں سے بعض باتیں معمولی نوعیت کی ہیں جو جماعت احمدیہ کے سابقہ طریق کار میں بھی شامل تھیں اور ہر منظم جماعت کے پروگرام میں شامل ہوتی ہیں لیکن یہ خیال تین لحاظ سے غلط ہو گا اول ان مطالبات میں بہت سی باتیں نئی ہیں یا اگر وہ نئی نہیں تو انہیں نئے رنگ