سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 397 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 397

۳۹۷ بھی یعنی مسلمانوں کے دنیوی لیڈر آنے والے انقلاب کے قرب سے چونک کر اپنی آنکھیں مل رہے تھے اور اس احساس کے ساتھ آہستہ آہستہ بیدار ہو رہے تھے کہ کوئی مخفی طاقت ان کے گروہ کو سرعت کے ساتھ اپنی طرف کھینچے لئے جارہی ہے۔اچانک زمینی اور آسمانی طاقتوں نے ایک فوری جنبش کی اور ایک خطر ناک زلزلہ کے رنگ میں جماعت احمدیہ اور مسلمانوں کے درمیان کی خلیج کو جو بہت چھوٹی رہ گئی تھی تہ و بالا کر کے وسیع کر دیا۔اتنا وسیع کہ اس سے پہلے وہ کبھی اتنی وسیع نہیں ہوئی تھی۔آسمانی طاقتوں نے تو یہ کہا کہ بے شک یہ اتصال مقدر ہے اور ایک دن ہو کر رہے گا مگر ابھی اس کا وقت نہیں آیا اور وقت سے پہلے کی تبدیلی اپنے اندر کئی قسم کے خطرات رکھتی ہے اور پوری پختگی سے پہلے پھل کا توڑنا درست نہیں۔اور زمین کی طاقتوں نے یہ کہا کہ اگر یہ چھوٹا سا خودرو پودا ابھی سے بڑے بڑے بلند درختوں پر اپنا سایہ ڈالنے لگ گیا تو نہ معلوم آگے چل کر کیا ہو گا پس قبل اس کے کہ وہ زیادہ طاقت پائے اسے مٹانے کا انتظام ضروری ہے۔پس گو آسمان اور زمین کے ارادے مختلف تھے مگر ان کا فعل ایک ہی تھا اور ان دونوں طاقتوں کی متحدہ جنبش نے مسلمانوں اور احمدیوں کو اٹھا کر ایک دوسرے سے پرے پھینک دیا۔یہ عظیم الشان انقلاب تحریک کشمیر کے زمانہ میں ہوا جس کا مختصر مگر عجیب وغریب قصہ ہم اس وقت بیان کرنے لگے ہیں۔اس تحریک کے دوران میں جماعت احمدیہ مسلمانوں سے قریب ترین جگہ پر پہنچ گئی ایسی کہ اس سے زیادہ قریب وہ کبھی نہیں پہنی تھی۔اور اس تحریک کے اختتام پر اس مخفی حرکت کا آغاز ہوا جس سے وہ مسلمانوں سے دور ترین جگہ پر چلی گئی ایسی کہ اس سے زیادہ دور وہ کبھی نہیں گئی تھی تفصیل اس اجمال کی یہ ہے گو ہماری مختصر گنجائش کے لحاظ سے یہ تفصیل بھی اجمال ہی کا رنگ رکھے گی۔کہ ریاست کشمیر جو پنجاب کے شمال میں ایک بہت بڑی ریاست ہے اور جو اپنے رقبہ کے لحاظ سے ہندوستان کی سب ریاستوں میں بڑی ہے اس میں ۱۹۳۱ء کے قریب آکر ایک تبدیلی کے آثار پیدا ہوئے۔اس ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت پائی جاتی ہے۔یعنی خالص کشمیر