سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 364 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 364

۳۶۴ کی وسعت پر پھیلا ہوا تھا اور اس وسیع محاذ پر اسلام اور کفر کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل پر تخت یا تختہ کے عزم کے ساتھ ڈیرہ جمائے پڑی تھیں۔دورانِ جنگ میں احمدیت کے جنگجو دستہ کے لئے بعض خطرے کے موقعے بھی پیش آئے جن میں بعض اوقات غنیم نے نازک حالات پیدا کر دیئے اور ایسا تو کئی دفعہ ہوا کہ احمدی والنٹیر اپنی کوشش سے ایک شدہ شدہ گاؤں کو اسلام میں واپس لائے مگر ہندو دستہ نے پھر یورش کر کے اسے پھسلا دیا مگر احمدیوں نے دوبارہ حملہ کر کے پھر دوسری دفعہ قلعہ سر کر لیا۔بعض دیہات نے کئی کئی دفعہ پہلو بدلا کیونکہ اس کشمکش کے دوران میں بعض ملکا نہ دیہات میں کچھ لالچ بھی پیدا ہو گیا تھا مگر بالآخر ایک ایک کر کے ہر ہندو مورچہ فتح کر لیا گیا اور خدا کے فضل سے شدھی کے مواج دریا نے مکمل پلٹا کھا کر اپنا رستہ بدل لیا۔بلکہ اس جدوجہد میں ایک حد تک ملکانہ راجپوتوں کی دینی تربیت بھی ہو گئی اور ان میں سے کم از کم ایک حصہ خدا کے فضل سے صرف نام کا مسلمان نہیں رہا بلکہ اسلام کی حقیقت کو سمجھنے والا اور اسلام کے احکام پر چلنے والا بن گیا۔مگر اس عظیم الشان فتح کے باوجود احمد یہ جماعت نے ابھی تک اس علاقہ کو چھوڑا نہیں بلکہ جہاں غیر احمدی اور غیر مسلم واعظ وہاں سے عرصہ ہوا کہ واپس آگئے ہوئے ہیں احمدی مبلغوں کا ایک حصہ ابھی تک میدان عمل میں ہے اور ان گری ہوئی قوموں کو اٹھانے اور پختہ مسلمان بنانے کا کام جاری ہے۔جماعت احمدیہ کا یہ ایک ایسا سنہری کا رنامہ تھا کہ کے دشمنوں تک نے اس کا برملا اعتراف کیا چنانچہ ہم نمونیہ بعض آراء کا اقتباس اس جگہ درج کرتے ہیں:۔احمدیوں نے جس خلوص جس ایثار جس جوش اور جس ہمدردی سے اس کام میں۔حصہ لیا ہے وہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے۔“ اور پھر۔وو " جو حالات فتنہ ارتداد کے متعلق بذریعہ اخبارات علم میں آچکے ہیں ان سے صاف واضح ہے کہ مسلمانان جماعت احمد یہ اسلام کی انمول خدمت کر رہے ہیں زمیندار ۱۸ار اپریل ۱۹۲۳ء