سلسلہ احمدیہ — Page 363
۳۶۳ علم ہوا تو ۱۹۲۲۲۳ء میں حضرت خلیفۃ اسیح ثانی نے اپنی جماعت کو حرکت میں لا کر اس شدھی کے طوفان کو روکنے کی کوشش کی اور فوراً اپنے بعض مبلغ اس علاقہ میں بھجوا کر کام شروع کر دیا اس کے بعد آپ نے جماعت احمدیہ میں ایک عام اپیل کر کے سینکڑوں آنریری مبلغ بھرتی کر لئے اور ملکانہ راجپوتوں کے علاقہ میں احمدی مبلغوں کا ایک وسیع جال پھیلا دیا اور ایسا انتظام کیا کہ جب ایک دستہ مبلغوں کا فارع ہوتا تھا تو اس کی جگہ دوسرا دستہ پہنچ جاتا تھا۔اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کے ہر طبقہ نے اپنی آنریری خدمات پیش کر کے اس عظیم الشان مہم میں تبلیغی خدمات سرانجام دیں۔گورنمنٹ کے ملازم۔رؤساء۔وکلا۔تاجر۔زمیندار۔صناع۔پیشہ ور۔مزدور۔استاد۔طالب علم۔عربی دان۔انگریزی خوان غرض ہر طبقہ کے لوگ اپنے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آگے آئے اور ایسا انتظام کیا گیا کہ ایک ایک وقت میں ایک ایک سو آنریری مبلغ اس علاقہ میں کام کرتے تھے اور یہ سارا کام ایک با قاعدہ نظام کی صورت میں تھا جس کی باگ ڈور حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کی ذاتی ہدایات کے ماتحت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے سابق مبلغ لندن کے ہاتھ میں تھی۔احمدیوں کو دیکھ کر بعض غیر احمدی انجمنیں بھی میدان عمل میں آئیں مگر یہ بات افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ ان کا کام سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھا کہ لوگوں کو احمدی مبلغوں کے خلاف اکسا کر اور کفر کے فتوے دے کر تبلیغ کے کام میں روڑا اٹکا ئیں۔مگر جو کام خدا نے جماعت احمدیہ سے لینا تھا اسے کون روک سکتا تھا۔چنانچہ چند ماہ کی مسلسل اور دن رات کی والہانہ جدو جہد کے نتیجہ میں شدھی کی روکو قطعی طور پر روک دیا گیا اور نہ صرف آئندہ شدھی کا سلسلہ بند ہو گیا بلکہ جو لوگ پہلے سے شدھی ہو چکے تھے انہیں بھی آہستہ آہستہ اسلام میں لا کر حق کا جھنڈا بلند کیا گیا حتی کہ بیشتر مقامات پر ہندو واعظ مقابلہ ترک کر کے میدان خالی کر گئے۔خاکسار مولف رسالہ ہذا کو ان ایام میں خود اس علاقہ میں جا کر حالات دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا اور میرے دل پر جو اثر تھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک عظیم الشان جنگ تھی جس کا محاذ قریباً ایک سومیل