سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 342 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 342

۳۴۲ فرقہ کی لاہوری پارٹی آہستہ آہستہ مسلمانان ہند کی مسلم لیگ پارٹی کے اندر جذب ہو جائے گی ہاں اس قدر ضرور ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں میں مسیحیت کے خلاف ایک زیادہ زبر دست جذ بہ لیتی جائے گی اور شاید کسی حد تک مسیح ناصری کی موت کا عقیدہ بھی ساتھ لیتی جاوے لیکن اس کے مقابل پر قادیان کی پارٹی آخر تک اسلام کی ایک مستقل اور جدا گانہ پارٹی رہے گی اور غالباً اسی حالت میں بڑھتی جائے گی۔بد قسمتی سے اس سارے انقلاب کی وجہ یہ ہوئی ہے کہ منکرین خلافت نے کی غرض و غایت اور اس کے مقصد و منتہی کو نہیں سمجھا۔انہوں نے صرف اس قدر دیکھا کہ بانی ایک نیک اور پاکباز انسان ہیں اور اسلام کی تبلیغ کا خاص شوق رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ نے بعض اسلامی عقائد کی ایسی معقول اور حکیمانہ تشریح کی ہے کہ جس سے وہ اعتراضات جو آجکل عام طور پر اسلام کے خلاف ہوتے تھے اسلام کے پاک چہرہ سے دھل گئے ہیں۔اس جذ بہ اور اس احساس کے ماتحت انہوں نے احمدیت کو قبول کیا مگر انہوں نے احمدیت کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور نہ ہی کبھی یہ غور کیا کہ کس منہاج پر قائم ہے اور اللہ تعالیٰ احمدیت کے ذریعہ دنیا میں کیا انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ انقلاب کس رنگ میں پیدا ہو گا۔اگر وہ ان باتوں کو سمجھتے تو یقینا وہ اس ٹھوکر سے بچ جاتے جو اب انہیں لگی ہے۔کیونکہ اس صورت میں وہ بجائے احمدیت کو موجودہ زمانہ کے اسلام کی طرف لے جانے کے موجودہ اسلام کو احمدیت کی طرف لانے کی کوشش کرتے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو بالآخر غالب آنے والی ہے۔انہوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کہ جب خدا تعالیٰ نے بانی کو تجدید اسلام کے لئے مبعوث کیا ہے تو اب سنت اللہ کے مطابق بگڑے ہوئے اسلام کو اصلاح شدہ اسلام کی طرف آنا چاہئے نہ یہ کہ اصلاح شدہ اسلام بگڑے ہوئے اسلام کی طرف جائے۔پھر افسوس ہے کہ ان لوگوں نے قوموں کے اتار چڑھاؤ کے فلسفہ کو بھی نہیں سمجھا۔کیونکہ اگر وہ سوچتے تو انہیں یہ بات ترجمه از احمدیہ موومنٹ صفحہ ۱۴۰۔ایڈیشن ۱۹۱۸ء