سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 315 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 315

۳۱۵ جال سے باہر کتنے پرندے باقی رہتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے بھی جہاں ایک طرف صرف چند پرندوں کے پکڑے جانے کا ذکر کیا ہے وہاں دوسری طرف صراحت کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ اہل مغرب بڑی کثرت اور زور کے ساتھ اسلام اور احمدیت کی طرف رجوع کریں گے۔حضرت خلیفہ امسیح اول کی علالت اور وفات :۔حضرت خلیفہ اول کو اپنی خلافت کے دوران میں ایک حادثہ پیش آ گیا تھا اور وہ یہ کہ آپ ۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء کو ایک گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے تھے کے شروع شروع میں یہ زخم معمولی سمجھا گیا مگر بعد میں اس کا اثر گہرا ثابت ہوا اور دائیں کنپٹی کے پاس آپریشن کے نتیجہ میں ایک گہرا نشان پڑ گیا اور گو آپ ایک لمبے عرصہ تک صاحب فراش رہنے کے بعد صحت یاب ہو گئے مگر اس کے بعد آپ کی صحت کبھی بھی پہلے جیسی نہیں ہوئی۔جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ء کے بعد سے آپ میں زیادہ کمزوری کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوئے اور جنوری ۱۹۱۴ء کے وسط سے معین بیماری کا آغاز ہو گیا۔کے ابتداء میں صرف پسلی کے درد کی تکلیف اور گاہے گاہے کی ہلکی حرارت اور قے وغیرہ کی شکایت تھی جو آہستہ آہستہ سل کی صورت اختیار کر گئی اور اس بیماری نے اس قدر زور پکڑ لیا کہ پھر اس کے بعد آپ بستر سے نہ اُٹھ سکے۔اس طویل بیماری کے ایام میں منکرین خلافت کا پراپیگنڈا بہت زور پکڑ گیا۔اور اخلاقی مسائل کی برملا اشاعت کے علاوہ مویدین خلافت اور خصوصاً حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے خلاف ذاتی حملوں نے زیادہ شدت اختیار کر لی۔گویا ان ایام میں لاہوری پارٹی کے زعماء نے ایک آخری جدوجہد اس بات کی کرنی چاہی کہ حضرت خلیفہ اول کی بیماری سے فائدہ اٹھا کر جماعت کے سواد اعظم کو اپنی طرف کھینچ لائیں۔مگر ایک خدائی تحریک کو اس کے ابتدائی مراحل میں غلط رستہ پر ڈال دینا کسی انسانی طاقت کا کام نہیں اس لئے اس کوشش میں منکرین خلافت کو سخت نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا۔مجھے خوب یاد ہے کہ ان ایام میں احمدیت کی فضا یوں شرر بار ہو رہی تھی کہ گویا ایک میدان جنگ لتذكرة الشهادتين ۲ بدر ۱۲۸ نومبر ۱۹۱۰، صفحه ۱۵ کال ۲-۳ ۳ الفضل ۱۴ جنوری ۱۹۱۴ء