سلسلہ احمدیہ — Page 270
۲۷۰ فلسفی کوئی ایسی الہی صداقت نکال نہیں سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو۔قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفۂ فطرت کے عجائب و غرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔“ پھر فرماتے ہیں:۔یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم بذات خود معجزہ ہے اور بڑی بھاری وجہ اعجاز کی اس میں یہ ہے کہ وہ جامع حقائق غیر متناہیہ ہے مگر بغیر وقت کے وہ ظاہر نہیں ہوتے بلکہ جیسے جیسے وقت کے مشکلات تقاضا کرتے ہیں وہ معارف خفیہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔دیکھو د نیوی علوم جوا کثر مخالف قرآن کریم اور غفلت میں ڈالنے والے ہیں کیسے آجکل ایک زور سے ترقی کر رہے ہیں اور زمانہ اپنے علوم ریاضی اور طبعی اور فلسفہ کی تحقیقاتوں میں کیسی ایک عجیب طور کی تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔کیا ایسے نازک وقت میں ضرور نہ تھا کہ ایمانی اور عرفانی ترقیات کے لئے بھی دروازہ کھولا جا تا تا شرور محدثہ کی مدافعت کے لئے آسانی پیدا ہو جاتی۔سو یقیناً سمجھو کہ وہ دروازہ کھولا گیا ہے اور خدا تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ تا قرآن کریم کے عجائبات مختفیہ اس دنیا کے متکبر فلسفیوں پر ظاہر کرے۔“ نبوت کا سلسلہ بند نہیں ہوا :۔ایک اور بڑی اصلاح جو حضرت مسیح موعود نے مسلمانوں کے خیالات میں فرمائی وہ مسئلہ نبوت کے متعلق تھی۔کئی صدیوں کے تنزل کے زمانہ میں ہمتوں کے پست ہو جانے کی وجہ سے اور بعض قرآنی آیات اور احادیث کا غلط مطلب سمجھنے کے نتیجہ میں مسلمانوں کے ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۵۵ تا ۲۵۸ ۲ از اله او بام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۶، ۴۶۷