سلسلہ احمدیہ — Page 249
۲۴۹ جیسا کہ ہمارے سردار محمد مصطفی یہ نبوت کے مقام پر فائز تھے اور خاتم الانبیاء تھے اسی طرح میں دلایت میں ختم کے مقام پر فائز ہوں اور خاتم الاولیاء ہوں۔میرے بعد کوئی ولی نہیں آسکتا مگر وہی جو مجھ میں سے ہو اور میرے عہد پر قائم ہو میرا قدم ایک ایسے مینار پر ہے جس پر تمام بلندیاں ختم ہیں۔عالی پھر فرماتے ہیں:۔” خدا نے مجھ پر اپنے برگزیدہ رسول کا فیض نازل فرمایا اور اس فیض کو کامل ومکمل کیا اور اس نبی کے لطف و کرم کو میری طرف کھینچا حتی کہ ( کامل اتحاد کی وجہ سے ) میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔پس جو شخص کہ میری جماعت میں داخل ہوا وہ دراصل سید المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور جو مجھ میں اور محمد مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا۔حضرت مسیح موعود کے مخصوص دعاوی اور آپ کے روحانی مقام کو بیان کرنے کے بعد ہم ان عام عقائد کا ذکر کرتے ہیں جن میں حضرت مسیح موعود نے یا تو رائج الوقت غلط عقائد کی اصلاح فرمائی ہے اور یا قرآن شریف سے استنباط کر کے ایسے نئے خیالات دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں جو اس سے پہلے اس رنگ میں دنیا کے سامنے نہیں آئے تھے۔خدا کی کوئی صفت معطل نہیں ہے :۔پہلا عقیدہ جو حضرت مسیح موعود نے بیان کیا وہ یہ تھا کہ خدا کی تمام صفات اس کی ذات کے ساتھ ابدی اور از لی ہیں اور کوئی صفت بھی ایسی نہیں جو پہلے تو کسی زمانہ میں کام کرتی ہو اور اب معطل ہو چکی ہو بلکہ ہر صفت اسی طرح قائم اور حیر عمل میں ہے جس طرح کہ پہلے تھی۔اس عقیدہ کے بیان کرنے اور اس پر زور دینے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ دوسری قو میں تو خیر الگ رہیں خود مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ اس غلط خیال میں مبتلا ہو گیا تھا کہ خدا کی بعض صفات ایسی ہیں کہ وہ بے شک پہلے زمانوں میں تو زندہ اور چوکس تھیں مگر اب وہ معلق اور معطل۔خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۷۰۶۹ ۲ خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۶ اصفحه ۲۵۹،۲۵۸