سلسلہ احمدیہ — Page 246
۲۴۶ اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہوگا تا یہ امت مرحومہ دوسری امتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔پس اس نے مجھے پیدا کر کے ہر اک گذشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہہ دی۔گویا تمام انبیاء گذشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہو گئے۔لے پھر فرماتے ہیں:۔۔” خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔میں آدم ہوں۔میں شیث ہوں۔میں نوح ہوں۔میں ابراہیم ہوں۔میں اسحاق ہوں۔میں اسماعیل ہوں۔میں یعقوب ہوں۔میں یوسف ہوں۔میں موسیٰ ہوں۔میں داؤد ہوں۔میں عیسی ہوں۔اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر ا تم ہوں یعنی ظلمی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“ ہے پھر فرماتے ہیں:۔میں ان گناہوں کے دور کرنے کے لئے جن سے زمین پر ہو گئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کے رو سے میں وہی ہوں یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔“ نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۸۲ ۲ حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۶ حاشیہ ے لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۸