سلسلہ احمدیہ — Page 245
۲۴۵ اعلان فرمایا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جز کی فضیلت قرار دیتا تھا۔مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ! اور اپنے ابتدائی انکار کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لا نیوالا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے “ ہے تمام انبیاء کے مثیل ہونے کا دعویٰ :۔ایک دعویٰ حضرت مسیح موعود کا یہ تھا کہ چونکہ یہ دنیا کے موجودہ دور کا آخری زمانہ ہے اور میرے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہر امت کی اصلاح کا کام لینا ہے اس لئے خدا نے مجھے صرف مثیل مسیح یا مثیل محمد ﷺ ہی بنا کر نہیں بھیجا بلکہ تمام گزشتہ انبیاء کی صفات میرے اندر جمع کر دی ہیں اور مجھے مثیل انبیاء قرار دیا ہے چنانچہ اس بارے میں آپ کو ایک نہایت لطیف الہام بھی ہوا تھا جو یہ ہے کہ:۔جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ یعنی ہمارا یہ مرسل تمام گزشتہ نبیوں کے لباس میں اور ان کی صفات سے متصف ہو کر آیا ہے۔“ لے حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۴۱۵۳ ۲ اشتہار ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۱۱،۲۱ ے تذکره صفحه ۶۳ مطبوع ۲۰۰۴ء