سلسلہ احمدیہ — Page 240
۲۴۰ اعلان کر دیا کہ اس سوال کو قبول نہیں کیا جائے گا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے ثابت کیا کہ آنحضرت ﷺ کی متعدد احادیث میں آنے والے مسیح کو نبی کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔لے اور جب یہ ثابت ہے کہ آنے والا مسیح گزرے ہوئے مسیح سے جدا ہے تو لا محالہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔الغرض حضرت مسیح موعود نے نبوت کے مسئلہ کے متعلق اپنی کتب میں نہایت سیر کن بحث فرمائی ہے اور اس ذیل میں مندرجہ ذیل امور پر زبر دست روشنی ڈالی ہے:۔(۱) یہ کہ نبوت کے جو معنی موجود الوقت مسلمانوں میں سمجھے گئے ہیں یعنی یہ کہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا کم از کم یہ کہ کسی سابقہ نبی سے فیض یافتہ نہ ہو یہ درست نہیں بلکہ نبوت سے مراد ایسا مکالمہ مخاطبہ الہیہ ہے جو کامل اور مصفی ہونے کے علاوہ کثرت کے ساتھ غیب کی خبروں پر مشتمل ہو پس ایک شخص نئی شریعت کے لانے کے بغیر سابقہ نبی کے فیض سے اور اس کی اتباع میں ہو کر نبوت کا انعام حاصل کر سکتا ہے مگر بہر حال یہ ضروری ہے کہ اسے خدا کی طرف سے نبی کا نام دیا جاوے۔الله (۲) یہ کہ آنحضرت ﷺ کے خاتم النبین ہونے سے یہ مراد نہیں کہ آپ آخری نبی ہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں اور اب آپ کی تصدیقی مہر کے بغیر کسی نئے یا پرانے نبی کی نبوت تسلیم نہیں کی جاسکتی۔(۳) یہ کہ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اس سے یہ مراد ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا بی نہیں جو میرے دور نبوت کو قطع کر کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہو۔(۴) یہ کہ امت محمدیہ کا مسیح موعود خدا کا ایک برگزیدہ نبی ہے جسے خود لا بخاری کتاب احادیث الانبياء باب قول الله واذكر في الكتاب مریم “ اور مسلم كتاب الفتن واشراط الساعة باب ذکر الدجال اور ابو داؤد کتاب الملاحم باب امارات الساعة -