سلسلہ احمدیہ — Page 239
۲۳۹ اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اب نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند ہے حالانکہ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد شریعت والی نبوت کا دروازہ بند ہے کیونکہ وہی ایسی نبوت ہے جس کے متعلق ” بعد“ کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے ورنہ ظلی نبوت اور تابع نبوت تو دراصل آنحضرت ﷺ کی نبوت ہی کا حصہ ہے اور اس کے اندر شامل ہے نہ کہ اس کے بعد۔خوب غور کرو کہ بعد میں آنے والی چیز اسی کو کہا جاتا ہے کہ جو سابقہ چیز کے اٹھ جانے یا ختم ہو جانے کے بعد آئے لیکن جو چیز سابقہ سلسلہ کے اندر ہی پروئی ہوئی ہو اور اس کا حصہ بن کر آئے اس کے متعلق بعد کا لفظ نہیں بولا جاسکتا۔پس اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ ” میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہاں ایسا نبی مراد ہے جو آپ کی شریعت کو منسوخ کر کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہو۔الغرض جن قرآنی آیات اور احادیث سے نبوت کے بند کرنے کی تائید میں سہارا ڈھونڈا جاتا ہے وہی نبوت کے دروازہ کو کھلا ثابت کرتی ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود نے صرف منفی قسم کے دلائل سے ہی اپنے دعوی کو قائم نہیں کیا بلکہ متعدد قرآنی آیات اور احادیث سے اس بات کو ثابت کیا کہ بے شک شریعت والی نبوت اور مستقل نبوت کا دروازه تو ضرور بند ہے مگر ظلی اور غیر تشریعی نبوت کا دروازہ بند نہیں بلکہ یہ دروازہ قیامت تک کھلا ہے اور اس کے کھلا رہنے میں ہی اسلام کی زندگی اور آنحضرت ﷺ کی شان کا اظہار ہے۔مثلاً حضرت مسیح موعود نے ثابت کیا کہ ایک طرف تو قرآن شریف مسلمانوں کو یہ دعا سکھاتا ہے کہ تم مجھ سے ان تمام روحانی انعامات کے حصول کے لئے دعا کیا کرو جو پہلی امتوں پر ہوتے رہے ہیں لے اور دوسری طرف قرآن شریف یہ بتاتا ہے کہ نبوت خدا کے ان اعلیٰ ترین انعاموں میں سے ہے جو پہلے لوگوں کو ملتے رہے ہیں ہے پس ایک طرف ہر قسم کے انعاموں کے مانگنے کی دعا سکھانا اور دوسری طرف یہ بتانا کہ انعام سے نبوت وغیرہ کے انعامات مراد ہیں صاف ظاہر کرتا ہے کہ اسلام میں نبوت کا دروازہ کھلا ہے ورنہ نعوذ باللہ یہ ماننا پڑے گا کہ خدا نے ایک طرف تو سوال کرنا سکھایا اور دوسری طرف ساتھ ہی یہ فاتحہ : ۷۶ نساء: ۷۰