سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 218 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 218

۲۱۸ کو اس کی بشارت پہنچائی۔اسلامی کلمہ کا دوسرا حصہ آنحضرت ﷺ کی رسالت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یعنی اسلام یہ سکھاتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی توحید کے قائل ہونے کے علاوہ تم آنحضرت کی رسالت پر بھی ایمان لاؤ۔یعنی یہ یقین کرو کہ محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے بچے نبی اور رسول ہیں اور جو پیغام وہ خدا کی طرف سے لائے ہیں وہ حق و راستی کا پیغام ہے جس کی اطاعت ہر مسلمان پر واجب ہے اور کوئی شخص آپ کی حکم عدولی کر کے خدا کا فرمانبردار نہیں کہلا سکتا کیونکہ آپ کا پیغام خدا کا پیغام ہے اور آپ کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔رسالت کا یہ مقام شرک میں داخل نہیں ہے بلکہ توحید کی حفاظت کے لئے ایک نہایت ضروری انتظام ہے کیونکہ حقیقی توحید کا سبق صرف نبیوں کے واسطے سے ملتا ہے اور جو شخص اس واسطے کو ترک کرے وہ حقیقی تو حید کے مقام سے گر جاتا ہے۔اسی لئے قرآن نے یہ تعلیم دی ہے کہ تم اگر خدا تعالیٰ کے پیارے بندے بنا چاہتے ہوتو محمد رسول اللہ کے نقش قدم پر چلو کیونکہ اس نے ہمارے راستے کی باریکیوں کو دیکھا ہوا ہے اور اس کے پیچھے لگ کر تم بھٹکنے سے محفوظ رہو گے۔اسلام یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ تمام نبیوں کے سردار ہیں اور آپ کے وجود میں سلسلہ رسالت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ہے اور اسی لئے آپ کو آخری شریعت عطا کی گئی جس کے بعد نسل آدم کے لئے کوئی اور شریعت نہیں۔اسلام اور دیگر مذاہب میں اصولی فرق دیگر مذاہب کے متعلق اسلام کی پوزیشن مخالفت کی نہیں بلکہ فی الجملہ تصدیق کی ہے کیونکہ گزشتہ نبیوں کے متعلق جن کی صداقت دنیا میں مسلم ہو چکی ہے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسول تھے اور اس کی طرف سے اپنے اپنے زمانہ کی ہدایت کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔انہوں نے اپنے اپنے وقت میں دنیا کو روشنی پہنچائی اور خدا کی معرفت کا سبق دیا مگر ان کی رسالت کا دائرہ خاص خاص زمانوں اور خاص خاص قوموں کے ساتھ محدود تھا اور ساری دنیا کے لئے اور سارے زمانوں کے لئے نہیں تھا اس لئے اب ان کی رسالت