سلسلہ احمدیہ — Page 209
۲۰۹ قادیان میں حضرت مسیح موعود کے والد صاحب کے زمانہ کا ایک پھلدار باغ ہے جس میں مختلف قسم کے ثمر دار درخت ہیں۔حضرت مسیح موعود کا طریق تھا کہ جب پھل کا موسم آتا تو اپنے دوستوں اور مہمانوں کو ساتھ لے کر اس باغ میں تشریف لے جاتے اور موسم کا پھل تڑوا کر سب دوستوں کے ساتھ مل کر نہایت بے تکلفی سے نوش فرماتے۔اس وقت یوں نظر آتا تھا کہ گویا ایک مشفق باپ کے اردگرد اس کی معصوم اولا دگھیرا ڈالے بیٹھی ہے۔مگر ان مجلسوں میں کبھی کوئی لغو بات نہیں ہوتی تھی بلکہ ہمیشہ نہایت پاکیزہ اور اکثر اوقات دینی گفتگو ہوا کرتی تھی اور بے تکلفی اور محبت کے ماحول میں علم و معرفت کا چشمہ جاری رہتا تھا۔حضرت مسیح موعود کے تعلقات دوستی کے تعلق میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ آپ کی دوستی کی بنیاد اس اصول پر تھی کہ الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي الله یعنی دوستی اور دشمنی دونوں خدا کے لئے ہونی چاہئیں نہ کہ اپنے نفس کے لئے یا دنیا کے لئے۔اسی لئے آپ کی دوستی میں امیر وغریب کا کوئی امتیاز نہیں تھا اور آپ کی محبت کے وسیع دریا سے بڑے اور چھوٹے ایک ساحصہ پاتے تھے۔دشمنوں کے ساتھ سلوک :۔قرآن شریف فرماتا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَنْ لَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى یعنی اے مسلمانو چاہئیے کہ کسی قوم یا فرقہ کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان کے معاملہ میں عدل و انصاف کا طریق ترک کر دو۔بلکہ تمہیں ہر حال میں ہر فریق اور ہر شخص کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرنا چاہئیے۔قرآن شریف کی یہ زریں تعلیم حضرت مسیح موعود کی زندگی کا نمایاں اصول تھی۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں کسی شخص کی ذات سے عداوت نہیں ہے۔بلکہ صرف جھوٹے اور گندے خیالات سے دشمنی ہے اس اصل کے ماتحت جہاں تک ذاتی امور کا تعلق ہے آپ کا اپنے دشمنوں کے ساتھ نہایت درجہ مشفقانہ سلوک تھا اور اشد ترین دشمن کا درد بھی آپ کو بے چین کر دیتا تھا۔چنانچہ جیسا کہ آپ کے سوانح کے حالات میں گزر چکا ہے جب آپ کے بعض چازاد بھائیوں نے جو آپ کے خونی دشمن تھے آپ کے مکان کے سامنے