سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 201 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 201

۲۰۱ اپنے وکیل سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ خواہ کچھ ہو میں خلاف واقعہ بات ہرگز نہیں کہوں گا اس لئے بھاری نقصان برداشت کر کے اپنے جائز حق کو ترک کر دیا گیا اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا گیا۔یہ دو واقعات صرف بطور نمونہ کے لکھے گئے ہیں لے ورنہ آپ کی زندگی اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور آپ کے متعلق خدا کا یہ الہام ایک ٹھوس صداقت پر مبنی ہے کہ :۔قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيُكُمُ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ د یعنی تو اپنے مخالفوں سے کہہ دے کہ اگر میں نے خدا پر افترا باندھا ہے تو میں مجرم ہوں اور اپنے جرم کی پاداش سے بچ نہیں سکتا مگر تم اتنا تو سوچو کہ میں اپنے دعوی سے پہلے تمہارے درمیان ایک لمباز مانہ گزار چکا ہوں اور تم میرے حالات اور میری عادات سے اچھی طرح واقف ہو تو کیا پھر بھی تم میری صداقت کے متعلق شک کرتے ہو اور عقل وخرد سے کام نہیں لیتے ؟ اس الہام میں گویا آپ کے منہ میں یہ دلیل ڈالی گئی تھی کہ اگر میں نے دنیا کی باتوں میں کبھی جھوٹ کا رستہ اختیار نہیں کیا اور ہر حال میں صداقت اور راستی کے دامن کو مضبوط پکڑے رکھا ہے اور کبھی کسی انسان تک پر افتراء نہیں باندھا تو اے لوگو کیا تمہارے دل اس بات پر تسلی پاتے ہیں کہ اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر میں خدائے قدوس پر افترا باندھنے لگ گیا ہوں اور ساری عمر نیکی اور راستی کی زندگی گزار کر اب آخری وقت میں اچانک ایک جھوٹا اور مفتری انسان بن گیا ہوں؟ یقینا یہ نتیجہ بالکل غیر طبعی اور عقل و خرد کے سراسر خلاف ہے کہ ایک شخص اپنی ساری جوانی تقوی وطہارت اور صداقت و راستی میں گزار کر آخری عمر میں قدم رکھتے ہی اچانک مفتری علی اللہ بن جائے۔تکلفات سے پاک زندگی :۔حضرت مسیح موعود کے اطلاق و عادات کا ایک اور نمایاں ان کے مفصل حالات کے لئے دیکھو آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۹۷ تا ۳۰۰ حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۸۶