سلسلہ احمدیہ — Page 200
۲۰۰ قائم رہے جبکہ ایسا کرنے میں اس کی ذات یا اس کے عزیز واقارب یا اس کے دوستوں اور تعلق داروں یا اس کی قوم و ملک کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔ان حالات میں راست گفتاری حقیقہ ایک بڑی قربانی کا درجہ رکھتی ہے اور وہی شخص اسے اختیار کر سکتا ہے جو سچائی کے مقابلہ پر ہرو نیوی نفع اور مہرو نیوی رشتہ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔اور سچائی کے اختیار کرنے میں بظاہر جتنا زیادہ خطرہ درپیش ہو اتنا ہی اس کے مقابلہ پر اس قربانی کا درجہ زیادہ بلند ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے لئے چونکہ ایک روحانی مصلح بننا مقدر تھا اس لئے آپ کی زندگی میں ایسے متعدد موقعے پیش آئے کہ جب راستی کو اختیار کرنا آپ کے لئے بظاہر بہت بڑے نقصان یا خطرے کا باعث تھا مگر آپ نے ہر ایسے موقعہ پر اپنے نفع اور فائدہ کو ایک پر پشہ کے برابر بھی حیثیت نہیں دی اور ایک مضبوط چٹان کی طرح صداقت اور راستی پر قائم رہے اور ہر قسم کے نقصان اور خطرے کو برداشت کیا مگر سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔مثلاً ایک دفعہ ایک فوجداری مقدمہ میں جو محکمہ ڈاکخانہ کی طرف سے آپ کے خلاف دائر کیا گیا تھا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس میں ایک بھاری جرمانہ یا قید کی سزا تھی اور مقدمہ کے حالات ایسے تھے کہ سوائے اس کے کہ آپ خود اپنی زبان سے اعتراف کریں دوسرے فریق کے ہاتھ میں کوئی قطعی ثبوت نہیں تھا آپ نے بڑی دلیری کے ساتھ اپنے فعل کا اعتراف کیا مگر ساتھ ہی یہ معذرت پیش کی کہ مجھے اس قانون کا علم نہیں تھا اور میں نے نیک نیتی کے ساتھ درست سمجھتے ہوئے یہ کام کیا ہے۔اس پر مجسٹریٹ کے دل پر آپ کی صداقت کا ایسا گہرا اثر ہوا کہ اس نے آپ کو بلا تامل بری کر دیا اور یہ بریت اس الہام کے مطابق ہوئی جو اس بارے میں پہلے سے آپ کو ہو چکا تھا۔اسی طرح ایک دفعہ ایک دیوانی مقدمہ میں جو آپ کی زوجہ اول کے بڑے بیٹے مرزا سلطان احمد صاحب نے ایک شخص کے خلاف دائر کر رکھا تھا اور اس مقدمہ کے ناکام رہنے میں خاندان کے ہاتھ سے ایک معقول جائداد نکل جاتی تھی فریق مخالف نے جو باوجود مخالف ہونے کے آپ کی راست گفتاری پر کامل اعتماد رکھتا تھا آپ کو بطور گواہ کے لکھا دیا اور گواصل امر میں حق آپ کے ساتھ تھا مگر چونکہ بعض ضمنی اور اصطلاحی امور میں آپ کی شہادت دوسرے فریق کے حق میں جاتی تھی اور آپ نے