سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 192 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 192

۱۹۲ میں دوسرے پاک نفس بزرگوں کی محبت کو بھی ایک خاص جلا دے دی تھی اور آپ کسی بزرگ کی ہتک گوارا نہیں کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ اپنے اصحاب کی ایک مجلس میں یہ ذکر فرما رہے تھے کہ نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری ہے اور امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ پڑھنی چاہیئے۔اس پر حاضرین میں سے کسی شخص نے عرض کیا کہ ” حضور! کیا سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ؟ آپ نے فور فر مایا نہیں نہیں ہم ایسا نہیں کہتے کیونکہ حفی فرقہ کے کثیر التعداد بزرگ یہ عقیدہ رکھتے رہے ہیں کہ سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں اور ہم ہرگز یہ خیال نہیں کرتے کہ ان بزرگوں کی نماز نہیں ہوئی۔“ اسی طرح آپ کو غیر مسلم قوموں کے بزرگوں کی عزت کا بھی بہت خیال تھا اور ہر قوم کے تسلیم شدہ مذہبی بزرگوں کو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتے تھے بلکہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کے نام کو عزت کے ساتھ دنیا میں قائم کر دیتا ہے اور لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اس کی بزرگی کا خیال بٹھا دیتا ہے اور اس کے سلسلہ کو استقلال اور دوام حاصل ہو جاتا ہے تو ایسا شخص جسے اس قدر قبولیت حاصل ہو جاوے جھوٹا نہیں ہو سکتا اور ہر انسان کا فرض ہے کہ بچوں کی طرح اس کی عزت کرے اور کسی رنگ میں اس کی ہتک کا مرتکب نہ ہو۔اس معاملہ میں خود اپنے مسلک کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔ماہمہ پیغمبراں را چا کریم ہمچو خاکے او فتاده بردرے ہر رسولے کو طریق حق نمود جان ما قرباں براں حق پرورے لے یعنی میں ان تمام رسولوں کا خادم ہوں جو خدا کی طرف سے آتے رہے ہیں اور میر انفس ان پاک روحوں کے درواز پر خاک کی طرح پڑا ہے۔ہر رسول جو خدا کا رستہ دکھانے کے لئے آیا ہے (خواہ وہ کسی زمانہ اور کسی ملک میں آیا ہو ) میری جان اس خادم دین پر قربان ہے۔“ دیباچہ براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۳