سلسلہ احمدیہ — Page 176
نے اس مضمون کو قریباً مکمل کر کے کاتب کے سپرد کر دیا اور عصر کی نماز سے فارغ ہو کر حسب طریق سیر کے خیال سے باہر تشریف لائے۔ایک کرایہ کی گھوڑا گاڑی حاضر تھی جو فی گھنٹہ مقررہ شرح کرایہ پر منگائی گئی تھی۔آپ نے اپنے ایک مخلص رفیق شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی سے فرمایا کہ اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سے سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک گھنٹہ کے کرایہ کے پیسے ہیں۔وہ ہمیں صرف اتنی دور لیجائے کہ ہم اس وقت کے اندر اندر ہوا خوری کر کے گھر واپس پہنچ جائیں۔چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی اور آپ تفریح کے طور پر چند میل پھر کر واپس تشریف لے آئے۔اس وقت آپ کو کوئی خاص بیماری نہیں تھی صرف مسلسل مضمون لکھنے کی وجہ سے کسی قد رضعف تھا اور غالباً آنے والے حادثہ کے مخفی اثر کے ماتحت ایک گونہ ربودگی اور انقطاع کی کیفیت طاری تھی۔آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا فرمائیں اور پھر تھوڑ اسا کھانا تناول فرما کر آرام کے لئے لیٹ گئے۔وصال اکبر :۔کوئی گیارہ بجے رات کا وقت ہوگا آپ کو پاخانہ جانے کی حاجت محسوس ہوئی اور آپ اٹھ کر رفع حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔آپ کو اکثر اسہال کی تکلیف ہو جایا کرتی تھی اب بھی ایک دست آیا اور آپ نے کمزوری محسوس کی اور واپسی پر حضرت والدہ صاحبہ کو جگایا اور فرمایا کہ مجھے ایک دست آیا ہے جس سے بہت کمزوری ہوگئی ہے وہ فورا اٹھ کر آپ کے پاس بیٹھ گئیں اور چونکہ آپ کو پاؤں دبانے سے آرام محسوس ہوا کرتا تھا اس لئے آپ کی چار پائی پر بیٹھ کر پاؤں دبانے لگ گئیں۔اتنے میں آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور آپ رفع حاجت کے لئے گئے اور جب اس دفعہ واپس آئے تو اس قدر ضعف تھا کہ آپ چار پائی پر لیٹتے ہوئے اپنے جسم کو سہار نہیں سکے اور قریباً بے سہارا ہو کر چار پائی پر گر گئے۔اس پر حضرت والدہ صاحبہ نے گھبرا کر کہا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے؟“ آپ نے فرمایا۔یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔یعنی اب مقدر وقت آن پہنچا ہے اور اس کے ساتھ ہی فرمایا مولوی صاحب ( یعنی حضرت مولوی نورالدین صاحب جو آپ کے خاص مقرب ہونے کے علاوہ ایک نہایت ماہر طبیب تھے ) کو بلوا لو۔اور یہ بھی فرمایا کہ محمود ( یعنی ہمارے بڑے بھائی