سلسلہ احمدیہ — Page 164
۱۶۴ وو ایمان ہوتاہی نہیں۔بلکہ ایک قسم کا قیاس ہوتا ہے جو انسان کو خدا کے متعلق اس شکی مقام سے آگے نہیں لے جاتا کہ کوئی خدا ہونا چاہیئے۔مگر آپ نے تشریح فرمائی کہ محض ”ہونا چاہئے والا ایمان کچھ حقیقت نہیں رکھتا جب تک کہ انسان اس یقین تک نہ پہنچ جائے کہ واقعی ایک خدا ہے اور آپ نے بتایا کہ یہ ” ہے والا ایمان رسولوں اور نبیوں کی وساطت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے لئے خدائی تجلیات اور نشانات اور معجزات کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک نبی اور رسول کے ذریعہ ہی ظاہر ہوتے ہیں۔اسی لئے محض ” ہونا چاہئیے والا ایمان جو صرف ایک قیاسی درجہ رکھتا ہے انسان کے اندر حقیقی عرفان اور کامل یقین اور تسلی اور اطمینان نہیں پیدا کر سکتا جو انسانی اعمال کی اصلاح اور خدا کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن افسوس ہے کہ حضرت مسیح موعود کی ان تشریحات نے عبدالحکیم خان کو فائدہ نہ پہنچایا اور وہ دن بدن مخالفت میں ترقی کرتا گیا اور چونکہ وہ لہم ہونے کا بھی مدعی تھا اس لئے اس نے آپ کے خلاف یہ بھی اعلان کیا کہ مجھے خدا نے بتایا ہے کہ آپ بہت جلد تباہ ہو جائیں گے اس کے لئے اس نے پہلے تین سال کی میعاد مقرر کیے اور پھر اسے بدل کر چودہ ماہ کی میعاد مقرر کی ہے اور پھر بالآخر اسے بھی بدل کر ایک معین دن مقرر کر دیا کہ ۴ راگست ۱۹۰۸ء کے دن آپ کی وفات ہوگی۔سے اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود کو خدا نے اس کے متعلق یہ الہام کیا کہ:۔” خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں۔کوئی غالب نہیں آسکتا۔رَبِّ فَرِّقْ بَيْنَ صَادِقٍ وَّ كَاذِبٍ - اے میرے خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا دے کے۔۔۔ان پر یہ ایک بہت لطیف الہام تھا جس کے الفاظ میں یہ اشارہ مخفی تھا کہ گو عبد الحلیم خان کی پیشگوئی تو بہر حال جھوٹی نکلے گی مگر دوسری طرف وہ آپ کی زندگی میں مرے گا بھی نہیں بلکہ بعد تک زندہ رہے گالیکن باوجود اس کے زندہ رہنے کے اللہ تعالیٰ جھوٹے اور سچے میں فرق کر کے دکھلا دے گا یعنی سچا لے دیکھوڈ کر اتحکیم نمبر ۶ عرف کا ناد جال صفحہ ۵۰ - ۲۔دیکھو اعلان الحق صفحہ ۶۔۳۔دیکھو پیسہ اخبار لاہور مورخہ ۵ ارمئی ۱۹۰۸ء واہل حدیث امرتسر مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۸ء۔۳۔دیکھواشتہار مورخہ ۱۶اگست ۱۹۰۶ء