سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 163 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 163

۱۶۳ زندگی کی روح پھونک دی تھی اور وہ خدمت کا موقعہ پانے کے لئے بیتاب ہو کر آگے آ رہے تھے۔چنانچہ اس تقریر کے معاً بعد یعنی اوائل ۱۹۰۶ء میں چند احمدی نوجوانوں نے مل کر قادیان میں ایک انجمن قائم کی جس کی غرض یہ تھی کہ احمدی نوجوان تقریر وتحریر کی مشق کر کے سلسلہ کی خدمت کے قابل بنیں۔اس انجمن کا نام حضرت مسیح موعود نے تفخیذ الاذہان رکھا۔یعنی ذہنوں کو تیز کرنے والی انجمن اور اس انجمن نے اپنا طریق عمل یہ اختیار کیا کہ ایک تو ہفتہ واری یا پندرہ روزہ جلسے منعقد کر کے تقریروں کی مشق شروع کی اور دوسرے ایک ماہواری رسالہ کا اجراء کیا جس کا نام بھی تشحیذ الاذہان رکھا گیا۔اس رسالہ میں اسلام اور احمدیت کی تائید میں مضامین لکھے جاتے تھے۔ان ہر دو سلسلوں نے جماعت کی ایک عمدہ خدمت سرانجام دی اور نو جوانوں کی تنظیم اور ان کی علمی اور عملی ترقی میں نمایاں حصہ لیا۔اس انجمن کے روح و رواں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب تھے جو آجکل جماعت کے امام ہیں اور ان کے ساتھ چوہدری فتح محمد صاحب اور بعض دوسرے نو جوان تھے۔یہ وہی چوہدری فتح محمد صاحب ہیں جو آجکل صدرانجمن احمدیہ کے پریزیڈنٹ اور ناظر اعلیٰ ہیں۔ڈاکٹر عبد الحکیم خان کا ارتداد اور حقیقۃ الوحی کی تصنیف:۔ہرالبی سلسلہ میں ایک حد تک ارتداد کا سلسلہ بھی چلتا ہے چنانچہ حضرت مسیح ناصری کے عہد میں بھی بعض لوگ مرتد ہو گئے تھے اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی عبداللہ بن ابی سرح وغیرہ نے ارتداد اختیار کیا تھا سو یہ سنت حضرت مسیح موعود کی جماعت میں بھی پوری ہوئی یعنی ۱۹۰۶ء کے شروع میں ایک شخص ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نامی جوریاست پٹیالہ میں اسسٹنٹ سرجن تھا اور کئی سال تک حضرت مسیح موعود کا مرید رہ چکا تھا جماعت سے مرتد ہو کر مخالفین کے گروہ میں شامل ہو گیا۔اس کے ارتداد کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کا یہ عقیدہ ہو گیا تھا کہ نجات کے لئے کسی نبی یا رسول پر ایمان لا ناضروری نہیں بلکہ محض خدا کو مان لینا کافی ہے۔حضرت مسیح موعود نے اسے بہت سمجھایا کہ وہ ایمان جو سلسلہ رسل و کتب کو الگ رکھ کر محض صحیفہ فطرت پر نگاہ کرنے سے خدا کے متعلق پیدا ہوتا ہے وہ بہت ناقص اور ادنی ہوتا ہے بلکہ دراصل وہ حقیقی