سلسلہ احمدیہ — Page 147
۱۴۷ لوگوں میں سخت جوش تھا اور وہ بار بار سٹیج کی طرف حملہ کرنے کے خیال سے بڑھتے تھے مگر پولیس روک کر پیچھے ہٹا دیتی تھی۔آخر آپ پولیس کے مشورہ سے ایک عقبی دروازہ میں سے باہر نکل کر اس گاڑی میں سوار ہو گئے جو پولیس نے آپ کے لئے مہیا کی تھی جو نہی کہ آپ اس گاڑی میں بیٹھ کر اپنی فرودگاہ کی طرف روانہ ہوئے لوگوں نے گاڑی کی طرف دھاوا کیا اور لاٹھیاں اور پتھر برسنے شروع ہو گئے۔مگر خدا کے فضل سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔صرف ایک احمدی کو لاٹھی سے خفیف چوٹ آئی اور ایک پتھر کا ٹکڑا گاڑی کے شیشے کو توڑ کر خاکسار مؤلف کے ہاتھ پر لگا۔اس سے کوئی زخم تو نہیں آیا مگر میرے لئے ایک فخر کی یادگار باقی رہ گئی کہ حضرت مسیح موعود کے خاندان میں اور آپ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے خدا کے رستے میں پہلی ضرب میں نے کھائی ہے۔دوسرے روز حضرت مسیح موعود قادیان واپس تشریف لے آئے۔حضرت مسیح موعود کی وصیت اور مقبرہ بہشتی کا قیام :۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات اا راکتو بر ۱۹۰۵ء کو ہوئی تھی اور اسی مہینہ کے آخری حصہ میں حضرت مسیح موعود کو اپنی وفات کے متعلق الہامات شروع ہو گئے اور اس کثرت اور تکرار کے ساتھ ہوئے کہ بقول آپ کے آپ کی ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور اس زندگی کو آپ پر سرد کر دیا۔چنانچہ سب سے پہلے ۱٫۱۸ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو آپ نے دیکھا کہ آپ کے سامنے ایک برتن میں مصفے اور ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا ہے جو بقدر دو یا تین گھونٹ کے تھالے اور اس کے ساتھ ہی آپ کو الہام ہوا۔” آب زندگی، یعنی یہ تیری بقیہ زندگی کا پانی ہے۔اس کے بعد الہام ہوا۔قَلَّ مِیعَادُ رَبِّكَ یعنی تیری زندگی کی میعاد تھوڑی رہ گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔خدا کی طرف سے سب پر اداسی چھا گئی۔پھر ۲۹ نومبر ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا۔قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ وَلَا نُبُقِى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا - یعنی تیری مقدر وفات کا وقت قریب آ گیا ہے اور ہم تیرے پیچھے کوئی رسوا کرنے والی بات نہیں رہنے دیں گے۔سے پھر ۱۴ / دسمبر ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا جاء وقتک و نبقی لک الایات باهرات لے اس میں یہ اشارہ تھا کہ اب آپ کی عمر صرف دو تین سال رہ گئی ہے چنانچہ عین ڈھائی سال کے بعد وفات ہوئی۔دیکھو بدرجلد نمبر ۲۹ مورخ ۲۰/اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳ کالم ۱۔سے الحکم جلد نمبر ۹ نمبر ۴۲ مورخ ۰ ار دسمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲ کالم ۱ بدر جلد نمبر ۳۹ مورخه ۱۵ار دسمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲ کالم ۱ 66